fa▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️은(는) 틱톡 크리에이터로, 팔로워 380.4K, 좋아요 11.4M입니다. 동영상 평균 조회수는 4K회, 참여율은 0.1%입니다. 자주 쓰는 해시태그: #n, #siren 및 #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.4K
팔로워
534
팔로잉
11.4M
좋아요
4K
평균 조회수
참여율: 0.1% 파키스탄 🗣️ 우르두어
언급한 크리에이터: @fayaznadeem7
380.4K
팔로워
11.4M
총 좋아요
4K
평균 조회수
26.8K
동영상
534
팔로잉
0
즐겨찾기
0.1%
참여율

성장 및 예측

마지막 업데이트7일 예측30일 예측
팔로워380.4K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
총 좋아요11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
동영상26.8K🔒 Pro🔒 Pro
평균 조회수4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

전체 리포트 잠금 해제

연락처 이메일, 성장 기록과 예측, 전체 동영상 아카이브는 Pro에서 제공됩니다.

전체 리포트 보기 →

베타 기간에는 Pro가 무료입니다. 신용카드 없이 체험을 시작하세요.

예상 수익

광고 게시물 1건당 예상 단가: $1.9K~$9.5K (팔로워 1,000명당 약 5~25달러 기준). 시청자 규모로 추정한 값이며 공개된 수입이 아닙니다.

마지막 업데이트:

틱톡 프로필

최근 동영상

최신 영상: 2026-10-25

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

자주 묻는 질문

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️의 팔로워는 몇 명인가요?

2026-10-30 기준 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️(@fay..1476)의 TikTok 팔로워는 380.4K명입니다.

비슷한 크리에이터

파키스탄 인기 틱톡 크리에이터 순위

모두 보기 →