No bio yet
- Followers
- 25.6M
- Likes
- 916.7M
- Views
- 694.4K
- Engage
- 1.0%
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ is a TikTok creator in Pakistan with 380.6K followers and 11.4M likes. Their videos average 4K views, an engagement rate of 0.1%. Most-used hashtags: #n, #siren and #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Estimated rate per sponsored post: $1.9K to $9.5K, based on roughly $5 to $25 per 1,000 followers. This is an estimate from audience size, not reported income.
Last updated:
Latest video: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) has 380.6K TikTok followers as of 2026-11-02.
No bio yet
Alhumdulillah blessed ✨ Vote now 👇🏻
Single 😎 Snapchat 👉 alii_khan110 Follow On Instagram 👇
Follow @AlishbahAnjum Use #DuetWithAlishbah
Snapchat (chzulqarnain) Vote for me ⬇️
Main character energy ✨ DM for paid promotions 03297461284 03004476489
Professional stage actoress 💃 Family vlogger 🏡 Follow our journey of love ❤️ just UK What…
ARY News is a leading news channel of Pakistan. - Har Lamha Bakhabar
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K seguidores hoy
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — estadísticas de TikTok: 380.6K seguidores, 11.4M me gusta, 4K reproducciones promedio, 0.1% de interacción.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ es creador de contenido en TikTok, con 380.6K seguidores y 11.4M me gusta. Sus videos promedian 4K reproducciones, con una tasa de interacción de 0.1%. Hashtags más usados: #n, #siren y #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Tarifa estimada por publicación patrocinada: de $1.9K a $9.5K, calculada con unos 5 a 25 USD por cada 1.000 seguidores. Es una estimación según el tamaño de la audiencia, no ingresos declarados.
Última actualización:
Último vídeo: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
A 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) tiene 380.6K seguidores en TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K seguidores hoje
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — estatísticas do TikTok: 380.6K seguidores, 11.4M curtidas, 4K visualizações médias, 0.1% de engajamento.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ é criador de conteúdo no TikTok, com 380.6K seguidores e 11.4M curtidas. Os vídeos têm em média 4K visualizações, com taxa de engajamento de 0.1%. Hashtags mais usadas: #n, #siren e #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Valor estimado por post patrocinado: $1.9K a $9.5K, com base em cerca de US$ 5 a US$ 25 por 1.000 seguidores. É uma estimativa pelo tamanho da audiência, não uma renda declarada.
Última atualização:
Último vídeo: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Em 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) tem 380.6K seguidores no TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K abonnés aujourd'hui
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistiques TikTok: 380.6K abonnés, 11.4M j'aime, 4K vues moyennes, 0.1% d'engagement.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ est un créateur TikTok, avec 380.6K abonnés et 11.4M j'aime. Ses vidéos cumulent en moyenne 4K vues, pour un taux d'engagement de 0.1%. Hashtags les plus utilisés: #n, #siren et #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Tarif estimé par publication sponsorisée: de $1.9K à $9.5K, sur la base d'environ 5 à 25 $ pour 1 000 abonnés. C'est une estimation à partir de la taille de l'audience, pas un revenu déclaré.
Dernière mise à jour:
Dernière vidéo: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Au 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) compte 380.6K abonnés sur TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K Follower heute
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok-Statistiken: 380.6K Follower, 11.4M Likes, 4K Aufrufe im Schnitt, 0.1% Engagement.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ist TikTok-Creator mit 380.6K Follower und 11.4M Likes. Die Videos erreichen im Schnitt 4K Aufrufe, bei einer Engagement-Rate von 0.1%. Meistgenutzte Hashtags: #n, #siren und #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Geschätzter Preis pro gesponserten Beitrag: $1.9K bis $9.5K, ausgehend von etwa 5 bis 25 US-Dollar pro 1.000 Follower. Das ist eine Schätzung nach Reichweite, kein gemeldetes Einkommen.
Zuletzt aktualisiert:
Neuestes Video: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Am 2026-11-02 hat ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K TikTok-Follower.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K follower oggi
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistiche TikTok: 380.6K follower, 11.4M like, 4K visualizzazioni medie, 0.1% di engagement.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ è un creator di TikTok con 380.6K follower e 11.4M like. I suoi video fanno in media 4K visualizzazioni, con un tasso di engagement del 0.1%. Hashtag più usati: #n, #siren e #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Tariffa stimata per post sponsorizzato: da $1.9K a $9.5K, calcolata su circa 5-25 dollari ogni 1.000 follower. È una stima basata sulla dimensione del pubblico, non un reddito dichiarato.
Ultimo aggiornamento:
Ultimo video: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Al 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) ha 380.6K follower su TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K volgers vandaag
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok-statistieken: 380.6K volgers, 11.4M likes, 4K gemiddelde weergaven, 0.1% engagement.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ is een TikTok-creator met 380.6K volgers en 11.4M likes. De video's halen gemiddeld 4K weergaven, met een engagementpercentage van 0.1%. Meestgebruikte hashtags: #n, #siren en #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Geschat tarief per gesponsorde post: $1.9K tot $9.5K, uitgaand van ongeveer 5 tot 25 dollar per 1.000 volgers. Dit is een schatting op basis van bereik, geen gemeld inkomen.
Laatst bijgewerkt:
Nieuwste video: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Op 2026-11-02 heeft ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K TikTok-volgers.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K obserwujących dziś
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statystyki TikToka: 380.6K obserwujących, 11.4M polubień, 4K wyświetleń średnio, 0.1% zaangażowania.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ to twórca na TikToku: 380.6K obserwujących, 11.4M polubień. Filmy mają średnio 4K wyświetleń, a wskaźnik zaangażowania wynosi 0.1%. Najczęściej używane hashtagi: #n, #siren i #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Szacowana stawka za post sponsorowany: od $1.9K do $9.5K, przy założeniu około 5–25 USD za 1000 obserwujących. To szacunek na podstawie wielkości widowni, a nie zgłoszony dochód.
Ostatnia aktualizacja:
Najnowszy film: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Według stanu na 2026-11-02 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) ma 380.6K obserwujących na TikToku.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K подписчиков сегодня
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — статистика TikTok: 380.6K подписчиков, 11.4M лайков, 4K просмотров в среднем, вовлечённость 0.1%.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ — автор в TikTok: 380.6K подписчиков, 11.4M лайков. В среднем видео набирает 4K просмотров, вовлечённость — 0.1%. Самые частые хештеги: #n, #siren и #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Оценочная цена рекламной публикации: от $1.9K до $9.5K, исходя из примерно 5–25 долларов за 1000 подписчиков. Это оценка по размеру аудитории, а не заявленный доход.
Обновлено:
Последнее видео: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
На 2026-11-02 у ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K подписчиков в TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K підписників сьогодні
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — статистика TikTok: 380.6K підписників, 11.4M вподобань, 4K переглядів у середньому, залученість 0.1%.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ — автор у TikTok: 380.6K підписників, 11.4M вподобань. У середньому відео набирає 4K переглядів, залученість — 0.1%. Найчастіші хештеги: #n, #siren і #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Орієнтовна ціна рекламної публікації: від $1.9K до $9.5K, виходячи з приблизно 5–25 доларів за 1000 підписників. Це оцінка за розміром аудиторії, а не заявлений дохід.
Оновлено:
Останнє відео: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Станом на 2026-11-02 у ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K підписників у TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K takipçi bugün
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok istatistikleri: 380.6K takipçi, 11.4M beğeni, 4K ortalama izlenme, 0.1% etkileşim.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️, bir TikTok içerik üreticisi: 380.6K takipçi, 11.4M beğeni. Videoları ortalama 4K izlenme alıyor; etkileşim oranı 0.1%. En çok kullanılan etiketler: #n, #siren ve #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Sponsorlu gönderi başına tahmini ücret: $1.9K ile $9.5K arası; 1.000 takipçi başına yaklaşık 5–25 dolar esas alınmıştır. Bu, kitle büyüklüğüne dayalı bir tahmindir, beyan edilmiş gelir değildir.
Son güncelleme:
Son video: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02 itibarıyla ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) hesabının TikTok'ta 380.6K takipçisi var.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – إحصاءات تيك توك: 380.6K متابع اليوم
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — إحصاءات تيك توك: 380.6K متابع، 11.4M إعجاب، 4K مشاهدة في المتوسط، معدل تفاعل 0.1%. صانع محتوى في باكستان ينشر عن #n و#siren.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ صانع محتوى على تيك توك، لديه 380.6K متابع و11.4M إعجاب. يحصد كل فيديو في المتوسط 4K مشاهدة، بمعدل تفاعل 0.1%. أكثر الوسوم استخدامًا: #n، #siren و#fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38السعر التقديري للمنشور الإعلاني الواحد: من $1.9K إلى $9.5K، بناءً على نحو 5 إلى 25 دولارًا لكل 1000 متابع. هذا تقدير مبني على حجم الجمهور وليس دخلًا مُعلنًا.
آخر تحديث:
أحدث فيديو: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
حتى 2026-11-02، لدى ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K متابع على تيك توك.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K فالوورز آج
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — ٹک ٹاک کے اعداد و شمار: 380.6K فالوورز، 11.4M لائکس، 4K اوسط ویوز، انگیجمنٹ 0.1%۔
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ پاکستان میں ٹک ٹاک کریئیٹر ہیں، 380.6K فالوورز اور 11.4M لائکس کے ساتھ۔ ان کی ویڈیوز کو اوسطاً 4K ویوز ملتے ہیں، انگیجمنٹ ریٹ 0.1% ہے۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ہیش ٹیگز: #n، #siren اور #fay۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38فی اسپانسرڈ پوسٹ اندازہ شدہ ریٹ: $1.9K سے $9.5K، تقریباً 5 سے 25 ڈالر فی 1,000 فالوورز کی بنیاد پر۔ یہ آڈیئنس کے حجم سے لگایا گیا اندازہ ہے، بتائی گئی آمدنی نہیں۔
آخری اپ ڈیٹ:
تازہ ترین ویڈیو: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02 تک ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) کے ٹک ٹاک پر 380.6K فالوورز ہیں۔
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – टिकटॉक आँकड़े: 380.6K फॉलोअर्स आज
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — टिकटॉक आँकड़े: 380.6K फॉलोअर्स, 11.4M लाइक्स, 4K औसत व्यूज़, 0.1% एंगेजमेंट।
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ टिकटॉक क्रिएटर हैं, जिनके 380.6K फॉलोअर्स और 11.4M लाइक्स हैं। उनके वीडियो पर औसतन 4K व्यूज़ आते हैं और एंगेजमेंट रेट 0.1% है। सबसे ज़्यादा इस्तेमाल होने वाले हैशटैग: #n, #siren और #fay।
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38प्रति स्पॉन्सर्ड पोस्ट अनुमानित दर: $1.9K से $9.5K, हर 1,000 फॉलोअर्स पर लगभग 5 से 25 डॉलर के आधार पर। यह दर्शकों की संख्या पर आधारित अनुमान है, घोषित आय नहीं।
आख़िरी अपडेट:
नवीनतम वीडियो: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02 तक ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) के TikTok पर 380.6K फॉलोअर्स हैं।
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – টিকটক পরিসংখ্যান: 380.6K ফলোয়ার আজ
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — টিকটক পরিসংখ্যান: 380.6K ফলোয়ার, 11.4M লাইক, 4K গড় ভিউ, 0.1% এনগেজমেন্ট।
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ একজন টিকটক ক্রিয়েটর, যাঁর 380.6K ফলোয়ার এবং 11.4M লাইক। তাঁর ভিডিওগুলো গড়ে 4K বার দেখা হয়, এনগেজমেন্ট রেট 0.1%। সবচেয়ে বেশি ব্যবহৃত হ্যাশট্যাগ: #n, #siren ও #fay।
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38প্রতি স্পনসরড পোস্টের আনুমানিক রেট: $1.9K থেকে $9.5K, প্রতি ১,০০০ ফলোয়ারে প্রায় ৫ থেকে ২৫ ডলারের ভিত্তিতে। এটি দর্শকসংখ্যার ভিত্তিতে অনুমান, ঘোষিত আয় নয়।
সর্বশেষ আপডেট:
সর্বশেষ ভিডিও: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02 পর্যন্ত ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476)-এর TikTok-এ 380.6K ফলোয়ার আছে।
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – टिकटक तथ्याङ्क: 380.6K फलोअर आज
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — टिकटक तथ्याङ्क: 380.6K फलोअर, 11.4M लाइक, 4K औसत भ्यु, 0.1% इन्गेजमेन्ट। #n र #siren बारे पोस्ट गर्ने पाकिस्तानका टिकटक क्रिएटर।
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ टिकटक क्रिएटर हुन्, जसका 380.6K फलोअर र 11.4M लाइक छन्। उनका भिडियोले औसतमा 4K भ्यु पाउँछन्, इन्गेजमेन्ट दर 0.1% छ। सबैभन्दा धेरै प्रयोग हुने ह्यासट्याग: #n, #siren र #fay।
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38प्रति स्पोन्सर्ड पोस्ट अनुमानित दर: $1.9K देखि $9.5K, प्रति १,००० फलोअर करिब ५ देखि २५ डलरको आधारमा। यो दर्शकको आकारमा आधारित अनुमान हो, घोषित आम्दानी होइन।
अन्तिम अपडेट:
पछिल्लो भिडियो: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02 सम्म ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) का TikTok मा 380.6K फलोअर छन्।
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K pengikut hari ini
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistik TikTok: 380.6K pengikut, 11.4M like, 4K rata-rata penayangan, engagement 0.1%.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ adalah kreator TikTok dengan 380.6K pengikut dan 11.4M like. Videonya rata-rata ditonton 4K kali, dengan tingkat engagement 0.1%. Hashtag yang paling sering dipakai: #n, #siren dan #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Perkiraan tarif per postingan berbayar: $1.9K hingga $9.5K, dengan asumsi sekitar 5 sampai 25 dolar per 1.000 pengikut. Ini hanya perkiraan dari ukuran audiens, bukan penghasilan yang dilaporkan.
Terakhir diperbarui:
Video terbaru: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Per 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) memiliki 380.6K pengikut TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K pengikut hari ini
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistik TikTok: 380.6K pengikut, 11.4M suka, 4K purata tontonan, penglibatan 0.1%.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ialah pencipta kandungan TikTok dengan 380.6K pengikut dan 11.4M suka. Videonya mendapat purata 4K tontonan, dengan kadar penglibatan 0.1%. Hashtag paling kerap digunakan: #n, #siren dan #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Anggaran kadar bagi setiap hantaran penajaan: $1.9K hingga $9.5K, berdasarkan kira-kira 5 hingga 25 dolar bagi setiap 1,000 pengikut. Ini anggaran berdasarkan saiz audiens, bukan pendapatan yang dilaporkan.
Kemas kini terakhir:
Video terbaharu: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Setakat 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) mempunyai 380.6K pengikut TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K followers ngayon
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok stats: 380.6K followers, 11.4M likes, 4K average views, 0.1% engagement.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
Si ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ay isang TikTok creator na may 380.6K followers at 11.4M likes. Umaabot sa average na 4K views ang mga video niya, na may engagement rate na 0.1%. Pinakamadalas na hashtag: #n, #siren at #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Tinatayang bayad kada sponsored post: $1.9K hanggang $9.5K, batay sa humigit-kumulang $5 hanggang $25 kada 1,000 followers. Tantiya ito mula sa laki ng audience, hindi iniulat na kita.
Huling na-update:
Pinakabagong video: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Hanggang 2026-11-02, may 380.6K TikTok followers si ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476).
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K người theo dõi hôm nay
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — số liệu TikTok: 380.6K người theo dõi, 11.4M lượt thích, 4K lượt xem trung bình, tỷ lệ tương tác 0.1%.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ là nhà sáng tạo TikTok với 380.6K người theo dõi và 11.4M lượt thích. Mỗi video có trung bình 4K lượt xem, tỷ lệ tương tác 0.1%. Hashtag dùng nhiều nhất: #n, #siren và #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Giá ước tính cho mỗi bài quảng cáo: $1.9K đến $9.5K, tính theo khoảng 5 đến 25 USD cho mỗi 1.000 người theo dõi. Đây là ước tính dựa trên quy mô khán giả, không phải thu nhập đã công bố.
Cập nhật lần cuối:
Video mới nhất: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Tính đến 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) có 380.6K người theo dõi trên TikTok.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – สถิติ TikTok: ผู้ติดตาม 380.6K วันนี้
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — สถิติ TikTok: ผู้ติดตาม 380.6K ยอดไลก์ 11.4M ยอดวิวเฉลี่ย 4K อัตราการมีส่วนร่วม 0.1%
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ เป็นครีเอเตอร์ TikTok มีผู้ติดตาม 380.6K และยอดไลก์ 11.4M วิดีโอมียอดวิวเฉลี่ย 4K ครั้ง อัตราการมีส่วนร่วม 0.1% แฮชแท็กที่ใช้บ่อยที่สุด: #n #siren และ #fay
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38ค่าโพสต์สปอนเซอร์โดยประมาณ: $1.9K ถึง $9.5K คำนวณจากราว 5–25 ดอลลาร์ต่อผู้ติดตาม 1,000 คน เป็นเพียงการประมาณจากขนาดผู้ชม ไม่ใช่รายได้ที่รายงานจริง
อัปเดตล่าสุด:
วิดีโอล่าสุด: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
ณ วันที่ 2026-11-02 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) มีผู้ติดตามบน TikTok 380.6K
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – ស្ថិតិ TikTok: អ្នកតាមដាន 380.6K ថ្ងៃនេះ
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — ស្ថិតិ TikTok: អ្នកតាមដាន 380.6K ការចូលចិត្ត 11.4M ការមើលជាមធ្យម 4K អត្រាចូលរួម 0.1%។
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ គឺជាអ្នកបង្កើតមាតិកា TikTok ដែលមានអ្នកតាមដាន 380.6K និងការចូលចិត្ត 11.4M។ វីដេអូនីមួយៗទទួលបានការមើលជាមធ្យម 4K ដង ជាមួយអត្រាចូលរួម 0.1%។ ហាស់ថេកដែលប្រើញឹកញាប់បំផុត៖ #n #siren និង #fay។
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38តម្លៃប៉ាន់ស្មានក្នុងមួយប្រកាសឧបត្ថម្ភ: $1.9K ដល់ $9.5K គណនាតាមប្រហែល 5 ដល់ 25 ដុល្លារក្នុងអ្នកតាមដាន 1,000 នាក់។ នេះជាការប៉ាន់ស្មានតាមទំហំទស្សនិកជន មិនមែនជាប្រាក់ចំណូលដែលបានរាយការណ៍ទេ។
ធ្វើបច្ចុប្បន្នភាពចុងក្រោយ:
វីដេអូថ្មីបំផុត: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
គិតត្រឹមថ្ងៃទី 2026-11-02 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) មានអ្នកតាមដាន TikTok 380.6K។
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – TikTok စာရင်းအင်း: ဖော်လိုဝါ 380.6K ယနေ့
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok စာရင်းအင်း: ဖော်လိုဝါ 380.6K၊ Like 11.4M၊ ပျမ်းမျှကြည့်ရှုမှု 4K၊ ထိတွေ့ဆက်ဆံမှု 0.1%။
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ သည် TikTok ဖန်တီးသူဖြစ်ပြီး ဖော်လိုဝါ 380.6K၊ Like 11.4M ရှိသည်။ ဗီဒီယိုတစ်ခုလျှင် ပျမ်းမျှ ကြည့်ရှုမှု 4K ကြိမ်ရှိပြီး ထိတွေ့ဆက်ဆံမှုနှုန်း 0.1% ဖြစ်သည်။ အသုံးအများဆုံး hashtag များ - #n၊ #siren နှင့် #fay။
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38စပွန်ဆာ ပို့စ်တစ်ခုလျှင် ခန့်မှန်းနှုန်း: $1.9K မှ $9.5K ၊ ဖော်လိုဝါ ၁,၀၀၀ လျှင် ဒေါ်လာ ၅ မှ ၂၅ ခန့်ကို အခြေခံသည်။ ၎င်းသည် ပရိသတ်အရွယ်အစားအပေါ် အခြေခံသော ခန့်မှန်းချက်သာဖြစ်ပြီး ထုတ်ပြန်ထားသော ဝင်ငွေ မဟုတ်ပါ။
နောက်ဆုံး အပ်ဒိတ်:
နောက်ဆုံး ဗီဒီယို: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02 အထိ ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) တွင် TikTok ဖော်လိုဝါ 380.6K ရှိသည်။
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – TikTok統計: フォロワー380.6K 今日
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok統計: フォロワー380.6K、いいね11.4M、平均再生数4K、エンゲージメント率0.1%。#nと#sirenについて投稿するパキスタンのTikTokクリエイター。毎日更新。
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️はTikTokクリエイターで、フォロワー380.6K、いいね11.4M。動画の平均再生数は4K回、エンゲージメント率は0.1%です。よく使うハッシュタグ:#n、#sirenと#fay。
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38タイアップ投稿1件あたりの推定単価:$1.9K〜$9.5K(フォロワー1,000人あたり約5〜25ドルで計算)。オーディエンス規模からの推定であり、公表された収入ではありません。
最終更新:
最新の動画:2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02時点で、▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️(@fay..1476)のTikTokフォロワーは380.6Kです。
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – 틱톡 통계: 팔로워 380.6K 오늘
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — 틱톡 통계: 팔로워 380.6K, 좋아요 11.4M, 평균 조회수 4K, 참여율 0.1%. #n 및 #siren 콘텐츠를 올리는 파키스탄 틱톡 크리에이터. 매일 업데이트.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️은(는) 틱톡 크리에이터로, 팔로워 380.6K, 좋아요 11.4M입니다. 동영상 평균 조회수는 4K회, 참여율은 0.1%입니다. 자주 쓰는 해시태그: #n, #siren 및 #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38광고 게시물 1건당 예상 단가: $1.9K~$9.5K (팔로워 1,000명당 약 5~25달러 기준). 시청자 규모로 추정한 값이며 공개된 수입이 아닙니다.
마지막 업데이트:
최신 영상: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
2026-11-02 기준 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️(@fay..1476)의 TikTok 팔로워는 380.6K명입니다.
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – የቲክቶክ ስታቲስቲክስ: 380.6K ተከታዮች ዛሬ
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — የቲክቶክ ስታቲስቲክስ: 380.6K ተከታዮች፣ 11.4M ላይኮች፣ 4K አማካይ እይታዎች፣ 0.1% ተሳትፎ። ስለ #n እና #siren የሚለጥፍ በፓኪስታን የቲክቶክ ይዘት ፈጣሪ። በየቀኑ ይዘመናል።
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ የቲክቶክ ይዘት ፈጣሪ ሲሆኑ 380.6K ተከታዮች እና 11.4M ላይኮች አሏቸው። ቪዲዮዎቻቸው በአማካይ 4K እይታ ያገኛሉ፤ የተሳትፎ መጠናቸው 0.1% ነው። በብዛት የሚጠቀሙባቸው ሃሽታጎች፦ #n፣ #siren እና #fay።
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38ለአንድ የስፖንሰር ልጥፍ የተገመተ ዋጋ፦ ከ$1.9K እስከ $9.5K፣ በ1,000 ተከታዮች ከ5 እስከ 25 ዶላር በሚሆን ግምት። ይህ በታዳሚ መጠን ላይ የተመሠረተ ግምት እንጂ የተገለጸ ገቢ አይደለም።
ለመጨረሻ ጊዜ የተዘመነው:
የቅርብ ጊዜ ቪዲዮ፦ 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
እስከ 2026-11-02 ድረስ ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K የቲክቶክ ተከታዮች አሉት።
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K taageere maanta
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — tirakoobka TikTok: 380.6K taageere, 11.4M like, 4K daawasho celcelis ahaan, 0.1% ka-qaybgal.
@fay..1476
🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~
▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ waa abuure TikTok oo leh 380.6K taageere iyo 11.4M like. Fiidiyowyadiisu waxay helaan celcelis ahaan 4K daawasho, heerka ka-qaybgalkuna waa 0.1%. Hashtag-yada ugu badan ee la isticmaalo: #n, #siren iyo #fay.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38Qiimaha la qiyaasay ee boosteyaasha kafaala-qaadka ah: $1.9K ilaa $9.5K, iyadoo lagu salaynayo qiyaastii 5 ilaa 25 doolar 1,000 taageere kasta. Waa qiyaas ku salaysan cabbirka daawadayaasha, ma aha dakhli la shaaciyay.
Markii ugu dambeysay la cusboonaysiiyay:
Fiidiyowga ugu dambeeyay: 2026-10-25
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
" مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو ! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں! جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں طاؤسںِ چمن کی مثل پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے ہجر کے صحرا میں روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished, The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now after gleaming Sprinkle the golden ash of them on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem Feroze Natique Khusro English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل ترا ، اور تم؟ وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟ تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ایک سی مہربانیاں ، اب تو ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم ایسے جیسے گلاب اور خوشبو ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم اب دعائے کمیل کے دم سے دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا تو و جو د ھے میرے خیال کا نجمہ #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
Illaa 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) wuxuu leeyahay 380.6K taageere oo TikTok ah.