fa▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ is a TikTok creator in Pakistan with 380.6K followers and 11.4M likes. Their videos average 4K views, an engagement rate of 0.1%. Most-used hashtags: #n, #siren and #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Followers
552
Following
11.4M
Likes
4K
Avg views
Engagement: 0.1% Pakistan 🗣️ Urdu
Mentioned by: @fayaznadeem7
380.6K
Followers
11.4M
Total likes
4K
Avg views
26.8K
Videos
552
Following
0
Favorited
0.1%
Engagement

Growth & Forecast

Last updated7-day forecast30-day forecast
Followers380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Total likes11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Videos26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Avg views4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Unlock the full report

Contact email, growth history and forecasts, and the full video archive are part of Pro.

View full report →

Pro is free during the beta: start a trial, no credit card required.

Estimated earnings

Estimated rate per sponsored post: $1.9K to $9.5K, based on roughly $5 to $25 per 1,000 followers. This is an estimate from audience size, not reported income.

Last updated:

TikTok profile

Recent videos

Latest video: 2026-10-25

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan
▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Frequently asked questions

How many followers does ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ have?

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) has 380.6K TikTok followers as of 2026-11-02.

Similar creators

Top TikTok Creators in Pakistan

View all →
ARY NEWS @arynews.official
#8

ARY News is a leading news channel of Pakistan. - Har Lamha Bakhabar

Followers
14.7M
Likes
1.7B
Views
9.1K
Engage
2.3%

Español

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K seguidores hoy

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — estadísticas de TikTok: 380.6K seguidores, 11.4M me gusta, 4K reproducciones promedio, 0.1% de interacción.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ es creador de contenido en TikTok, con 380.6K seguidores y 11.4M me gusta. Sus videos promedian 4K reproducciones, con una tasa de interacción de 0.1%. Hashtags más usados: #n, #siren y #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Seguidores
552
Siguiendo
11.4M
Me gusta
4K
Vistas medias
Interacción: 0.1% Pakistán 🗣️ urdu
Mencionado por: @fayaznadeem7
380.6K
Seguidores
11.4M
Me gusta totales
4K
Vistas medias
26.8K
Videos
552
Siguiendo
0
Favoritos
0.1%
Interacción

Crecimiento y pronóstico

Última actualizaciónPronóstico 7 díasPronóstico 30 días
Seguidores380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Me gusta totales11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Videos26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Vistas medias4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Desbloquea el informe completo

El correo de contacto, el historial de crecimiento y las previsiones, y el archivo completo de videos forman parte de Pro.

Ver informe completo →

Pro es gratis durante la beta: empieza una prueba, sin tarjeta de crédito.

Ingresos estimados

Tarifa estimada por publicación patrocinada: de $1.9K a $9.5K, calculada con unos 5 a 25 USD por cada 1.000 seguidores. Es una estimación según el tamaño de la audiencia, no ingresos declarados.

Última actualización:

Perfil de TikTok

Videos recientes

Último vídeo: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Preguntas frecuentes

¿Cuántos seguidores tiene ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

A 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) tiene 380.6K seguidores en TikTok.

Creadores similares

Top creadores de TikTok en Pakistán

Ver todo →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Seguidores
25.6M
Me gusta
916.7M
Vistas
694.4K
Interac.
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Seguidores
22M
Me gusta
1B
Vistas
9.8M
Interac.
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Seguidores
19M
Me gusta
691.5M
Vistas
346.7K
Interac.
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Seguidores
17.8M
Me gusta
947M
Vistas
496.1K
Interac.
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Seguidores
15.4M
Me gusta
460.6M
Vistas
3.2M
Interac.
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Seguidores
15.3M
Me gusta
554.4M
Vistas
412.3K
Interac.
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Seguidores
14.7M
Me gusta
1.7B
Vistas
9.1K
Interac.
2.3%

Português

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K seguidores hoje

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — estatísticas do TikTok: 380.6K seguidores, 11.4M curtidas, 4K visualizações médias, 0.1% de engajamento.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ é criador de conteúdo no TikTok, com 380.6K seguidores e 11.4M curtidas. Os vídeos têm em média 4K visualizações, com taxa de engajamento de 0.1%. Hashtags mais usadas: #n, #siren e #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Seguidores
552
Seguindo
11.4M
Curtidas
4K
Média de views
Engajamento: 0.1% Paquistão 🗣️ urdu
Mencionado por: @fayaznadeem7
380.6K
Seguidores
11.4M
Total de curtidas
4K
Média de views
26.8K
Vídeos
552
Seguindo
0
Favoritos
0.1%
Engajamento

Crescimento & Previsão

Última atualizaçãoPrevisão 7 diasPrevisão 30 dias
Seguidores380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Total de curtidas11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Vídeos26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Média de views4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Desbloqueie o relatório completo

E-mail de contato, histórico de crescimento e previsões e o arquivo completo de vídeos fazem parte do Pro.

Ver relatório completo →

O Pro é gratuito durante o beta: comece um teste, sem cartão de crédito.

Ganhos estimados

Valor estimado por post patrocinado: $1.9K a $9.5K, com base em cerca de US$ 5 a US$ 25 por 1.000 seguidores. É uma estimativa pelo tamanho da audiência, não uma renda declarada.

Última atualização:

Perfil no TikTok

Vídeos recentes

Último vídeo: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Perguntas frequentes

Quantos seguidores ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ tem?

Em 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) tem 380.6K seguidores no TikTok.

Criadores parecidos

Maiores criadores do TikTok em Paquistão

Ver tudo →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Seguidores
25.6M
Curtidas
916.7M
Views
694.4K
Engaj.
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Seguidores
22M
Curtidas
1B
Views
9.8M
Engaj.
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Seguidores
19M
Curtidas
691.5M
Views
346.7K
Engaj.
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Seguidores
17.8M
Curtidas
947M
Views
496.1K
Engaj.
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Seguidores
15.4M
Curtidas
460.6M
Views
3.2M
Engaj.
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Seguidores
15.3M
Curtidas
554.4M
Views
412.3K
Engaj.
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Seguidores
14.7M
Curtidas
1.7B
Views
9.1K
Engaj.
2.3%

Français

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K abonnés aujourd'hui

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistiques TikTok: 380.6K abonnés, 11.4M j'aime, 4K vues moyennes, 0.1% d'engagement.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ est un créateur TikTok, avec 380.6K abonnés et 11.4M j'aime. Ses vidéos cumulent en moyenne 4K vues, pour un taux d'engagement de 0.1%. Hashtags les plus utilisés: #n, #siren et #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Abonnés
552
Abonnements
11.4M
J'aime
4K
Vues moyennes
Engagement: 0.1% Pakistan 🗣️ ourdou
Mentionné par: @fayaznadeem7
380.6K
Abonnés
11.4M
Total de j'aime
4K
Vues moyennes
26.8K
Vidéos
552
Abonnements
0
Favoris
0.1%
Engagement

Croissance & prévisions

Dernière mise à jourPrévision 7 joursPrévision 30 jours
Abonnés380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Total de j'aime11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Vidéos26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Vues moyennes4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Débloquez le rapport complet

E-mail de contact, historique de croissance et prévisions, et archive complète des vidéos sont inclus dans Pro.

Voir le rapport complet →

Pro est gratuit pendant la bêta : essai sans carte bancaire.

Revenus estimés

Tarif estimé par publication sponsorisée: de $1.9K à $9.5K, sur la base d'environ 5 à 25 $ pour 1 000 abonnés. C'est une estimation à partir de la taille de l'audience, pas un revenu déclaré.

Dernière mise à jour:

Profil TikTok

Vidéos récentes

Dernière vidéo: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Questions fréquentes

Combien d'abonnés a ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ?

Au 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) compte 380.6K abonnés sur TikTok.

Créateurs similaires

Top créateurs TikTok (Pakistan)

Tout voir →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Abonnés
25.6M
J'aime
916.7M
Vues
694.4K
Engag.
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Abonnés
22M
J'aime
1B
Vues
9.8M
Engag.
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Abonnés
19M
J'aime
691.5M
Vues
346.7K
Engag.
0.6%
Dolly @dollyofficiall
#6
Abonnés
15.4M
J'aime
460.6M
Vues
3.2M
Engag.
4.2%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Abonnés
14.7M
J'aime
1.7B
Vues
9.1K
Engag.
2.3%

Deutsch

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K Follower heute

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok-Statistiken: 380.6K Follower, 11.4M Likes, 4K Aufrufe im Schnitt, 0.1% Engagement.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ist TikTok-Creator mit 380.6K Follower und 11.4M Likes. Die Videos erreichen im Schnitt 4K Aufrufe, bei einer Engagement-Rate von 0.1%. Meistgenutzte Hashtags: #n, #siren und #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Follower
552
Folgt
11.4M
Likes
4K
Ø Aufrufe
Engagement: 0.1% Pakistan 🗣️ Urdu
Erwähnt von: @fayaznadeem7
380.6K
Follower
11.4M
Likes gesamt
4K
Ø Aufrufe
26.8K
Videos
552
Folgt
0
Favorisiert
0.1%
Engagement

Wachstum & Prognose

Zuletzt aktualisiert7-Tage-Prognose30-Tage-Prognose
Follower380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Likes gesamt11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Videos26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Ø Aufrufe4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Vollständigen Bericht freischalten

Kontakt-E-Mail, Wachstumsverlauf und Prognosen sowie das komplette Videoarchiv sind Teil von Pro.

Vollständigen Bericht ansehen →

Pro ist während der Beta kostenlos: jetzt testen, keine Kreditkarte nötig.

Geschätzte Einnahmen

Geschätzter Preis pro gesponserten Beitrag: $1.9K bis $9.5K, ausgehend von etwa 5 bis 25 US-Dollar pro 1.000 Follower. Das ist eine Schätzung nach Reichweite, kein gemeldetes Einkommen.

Zuletzt aktualisiert:

TikTok-Profil

Neueste Videos

Neuestes Video: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Häufige Fragen

Wie viele Follower hat ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Am 2026-11-02 hat ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K TikTok-Follower.

Ähnliche Creator

Top TikTok-Creator in Pakistan

Alle ansehen →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Follower
25.6M
Likes
916.7M
Aufrufe
694.4K
Engag.
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Follower
22M
Likes
1B
Aufrufe
9.8M
Engag.
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Follower
19M
Likes
691.5M
Aufrufe
346.7K
Engag.
0.6%
Dolly @dollyofficiall
#6
Follower
15.4M
Likes
460.6M
Aufrufe
3.2M
Engag.
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Follower
15.3M
Likes
554.4M
Aufrufe
412.3K
Engag.
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Follower
14.7M
Likes
1.7B
Aufrufe
9.1K
Engag.
2.3%

Italiano

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K follower oggi

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistiche TikTok: 380.6K follower, 11.4M like, 4K visualizzazioni medie, 0.1% di engagement.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ è un creator di TikTok con 380.6K follower e 11.4M like. I suoi video fanno in media 4K visualizzazioni, con un tasso di engagement del 0.1%. Hashtag più usati: #n, #siren e #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Follower
552
Seguiti
11.4M
Like
4K
Visual. medie
Engagement: 0.1% Pakistan 🗣️ urdu
Menzionato da: @fayaznadeem7
380.6K
Follower
11.4M
Like totali
4K
Visual. medie
26.8K
Video
552
Seguiti
0
Preferiti
0.1%
Engagement

Crescita e previsioni

Ultimo aggiornamentoPrevisione 7 giorniPrevisione 30 giorni
Follower380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Like totali11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Video26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Visual. medie4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Sblocca il report completo

E-mail di contatto, storico della crescita e previsioni e l'archivio completo dei video sono inclusi in Pro.

Vedi il report completo →

Pro è gratuito durante la beta: inizia la prova, senza carta di credito.

Guadagni stimati

Tariffa stimata per post sponsorizzato: da $1.9K a $9.5K, calcolata su circa 5-25 dollari ogni 1.000 follower. È una stima basata sulla dimensione del pubblico, non un reddito dichiarato.

Ultimo aggiornamento:

Profilo TikTok

Video recenti

Ultimo video: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Domande frequenti

Quanti follower ha ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Al 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) ha 380.6K follower su TikTok.

Creator simili

Top creator di TikTok in Pakistan

Vedi tutti →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Follower
25.6M
Like
916.7M
Visual.
694.4K
Engag.
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Follower
22M
Like
1B
Visual.
9.8M
Engag.
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Follower
19M
Like
691.5M
Visual.
346.7K
Engag.
0.6%
Dolly @dollyofficiall
#6
Follower
15.4M
Like
460.6M
Visual.
3.2M
Engag.
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Follower
15.3M
Like
554.4M
Visual.
412.3K
Engag.
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Follower
14.7M
Like
1.7B
Visual.
9.1K
Engag.
2.3%

Nederlands

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K volgers vandaag

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok-statistieken: 380.6K volgers, 11.4M likes, 4K gemiddelde weergaven, 0.1% engagement.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ is een TikTok-creator met 380.6K volgers en 11.4M likes. De video's halen gemiddeld 4K weergaven, met een engagementpercentage van 0.1%. Meestgebruikte hashtags: #n, #siren en #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Volgers
552
Volgend
11.4M
Likes
4K
Gem. weergaven
Engagement: 0.1% Pakistan 🗣️ Urdu
Genoemd door: @fayaznadeem7
380.6K
Volgers
11.4M
Totaal likes
4K
Gem. weergaven
26.8K
Video's
552
Volgend
0
Favoriet
0.1%
Engagement

Groei & voorspelling

Laatst bijgewerkt7-dagenprognose30-dagenprognose
Volgers380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Totaal likes11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Video's26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Gem. weergaven4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Ontgrendel het volledige rapport

Contact-e-mail, groeigeschiedenis en prognoses en het volledige videoarchief zitten in Pro.

Bekijk volledig rapport →

Pro is gratis tijdens de bèta: start een proefperiode, geen creditcard nodig.

Geschatte inkomsten

Geschat tarief per gesponsorde post: $1.9K tot $9.5K, uitgaand van ongeveer 5 tot 25 dollar per 1.000 volgers. Dit is een schatting op basis van bereik, geen gemeld inkomen.

Laatst bijgewerkt:

TikTok-profiel

Recente video's

Nieuwste video: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Veelgestelde vragen

Hoeveel volgers heeft ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Op 2026-11-02 heeft ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K TikTok-volgers.

Vergelijkbare creators

Top TikTok-creators in Pakistan

Alles bekijken →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Volgers
25.6M
Likes
916.7M
Weerg.
694.4K
Engag.
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Volgers
22M
Likes
1B
Weerg.
9.8M
Engag.
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Volgers
19M
Likes
691.5M
Weerg.
346.7K
Engag.
0.6%
Dolly @dollyofficiall
#6
Volgers
15.4M
Likes
460.6M
Weerg.
3.2M
Engag.
4.2%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Volgers
14.7M
Likes
1.7B
Weerg.
9.1K
Engag.
2.3%

Polski

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K obserwujących dziś

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statystyki TikToka: 380.6K obserwujących, 11.4M polubień, 4K wyświetleń średnio, 0.1% zaangażowania.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ to twórca na TikToku: 380.6K obserwujących, 11.4M polubień. Filmy mają średnio 4K wyświetleń, a wskaźnik zaangażowania wynosi 0.1%. Najczęściej używane hashtagi: #n, #siren i #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Obserwujący
552
Obserwowani
11.4M
Polubienia
4K
Śr. wyświetlenia
Zaangażowanie: 0.1% Pakistan 🗣️ urdu
Wspomniany przez: @fayaznadeem7
380.6K
Obserwujący
11.4M
Polubienia łącznie
4K
Śr. wyświetlenia
26.8K
Filmy
552
Obserwowani
0
Ulubione
0.1%
Zaangażowanie

Wzrost i prognoza

Ostatnia aktualizacjaPrognoza 7-dniowaPrognoza 30-dniowa
Obserwujący380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Polubienia łącznie11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Filmy26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Śr. wyświetlenia4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Odblokuj pełny raport

E-mail kontaktowy, historia wzrostu i prognozy oraz pełne archiwum filmów są dostępne w Pro.

Zobacz pełny raport →

Pro jest darmowy w okresie beta: rozpocznij okres próbny bez karty kredytowej.

Szacowane zarobki

Szacowana stawka za post sponsorowany: od $1.9K do $9.5K, przy założeniu około 5–25 USD za 1000 obserwujących. To szacunek na podstawie wielkości widowni, a nie zgłoszony dochód.

Ostatnia aktualizacja:

Profil na TikToku

Najnowsze filmy

Najnowszy film: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Najczęstsze pytania

Ilu obserwujących ma ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Według stanu na 2026-11-02 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) ma 380.6K obserwujących na TikToku.

Podobni twórcy

Top twórcy TikToka (Pakistan)

Zobacz wszystko →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Obserwujący
25.6M
Polubienia
916.7M
Wyśw.
694.4K
Zaang.
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Obserwujący
22M
Polubienia
1B
Wyśw.
9.8M
Zaang.
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Obserwujący
19M
Polubienia
691.5M
Wyśw.
346.7K
Zaang.
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Obserwujący
17.8M
Polubienia
947M
Wyśw.
496.1K
Zaang.
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Obserwujący
15.4M
Polubienia
460.6M
Wyśw.
3.2M
Zaang.
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Obserwujący
15.3M
Polubienia
554.4M
Wyśw.
412.3K
Zaang.
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Obserwujący
14.7M
Polubienia
1.7B
Wyśw.
9.1K
Zaang.
2.3%

Русский

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K подписчиков сегодня

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — статистика TikTok: 380.6K подписчиков, 11.4M лайков, 4K просмотров в среднем, вовлечённость 0.1%.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ — автор в TikTok: 380.6K подписчиков, 11.4M лайков. В среднем видео набирает 4K просмотров, вовлечённость — 0.1%. Самые частые хештеги: #n, #siren и #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Подписчики
552
Подписки
11.4M
Лайки
4K
Ср. просмотры
Вовлечённость: 0.1% Пакистан 🗣️ урду
Упоминают: @fayaznadeem7
380.6K
Подписчики
11.4M
Всего лайков
4K
Ср. просмотры
26.8K
Видео
552
Подписки
0
В избранном
0.1%
Вовлечённость

Рост и прогноз

ОбновленоПрогноз на 7 днейПрогноз на 30 дней
Подписчики380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Всего лайков11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Видео26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Ср. просмотры4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Откройте полный отчёт

Контактный e-mail, история роста и прогнозы, а также полный архив видео доступны в Pro.

Смотреть полный отчёт →

Pro бесплатен на время бета-версии: попробуйте без банковской карты.

Оценка доходов

Оценочная цена рекламной публикации: от $1.9K до $9.5K, исходя из примерно 5–25 долларов за 1000 подписчиков. Это оценка по размеру аудитории, а не заявленный доход.

Обновлено:

Профиль в TikTok

Последние видео

Последнее видео: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Частые вопросы

Сколько подписчиков у ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

На 2026-11-02 у ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K подписчиков в TikTok.

Похожие блогеры

Лучшие блогеры TikTok (Пакистан)

Смотреть все →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Подписчики
25.6M
Лайки
916.7M
Просм.
694.4K
ER
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Подписчики
22M
Лайки
1B
Просм.
9.8M
ER
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
Подписчики
21.7M
Лайки
1.4B
Просм.
5.4M
ER
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
Подписчики
19M
Лайки
691.5M
Просм.
346.7K
ER
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Подписчики
17.8M
Лайки
947M
Просм.
496.1K
ER
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Подписчики
15.4M
Лайки
460.6M
Просм.
3.2M
ER
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Подписчики
15.3M
Лайки
554.4M
Просм.
412.3K
ER
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Подписчики
14.7M
Лайки
1.7B
Просм.
9.1K
ER
2.3%

Українська

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K підписників сьогодні

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — статистика TikTok: 380.6K підписників, 11.4M вподобань, 4K переглядів у середньому, залученість 0.1%.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ — автор у TikTok: 380.6K підписників, 11.4M вподобань. У середньому відео набирає 4K переглядів, залученість — 0.1%. Найчастіші хештеги: #n, #siren і #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Підписники
552
Підписки
11.4M
Вподобання
4K
Сер. перегляди
Залученість: 0.1% Пакистан 🗣️ урду
Згадують: @fayaznadeem7
380.6K
Підписники
11.4M
Усього вподобань
4K
Сер. перегляди
26.8K
Відео
552
Підписки
0
В обраному
0.1%
Залученість

Зростання та прогноз

ОновленоПрогноз на 7 днівПрогноз на 30 днів
Підписники380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Усього вподобань11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Відео26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Сер. перегляди4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Відкрийте повний звіт

Контактний e-mail, історія зростання та прогнози, а також повний архів відео доступні в Pro.

Переглянути повний звіт →

Pro безкоштовний під час бета-версії: спробуйте без банківської картки.

Оцінка доходів

Орієнтовна ціна рекламної публікації: від $1.9K до $9.5K, виходячи з приблизно 5–25 доларів за 1000 підписників. Це оцінка за розміром аудиторії, а не заявлений дохід.

Оновлено:

Профіль у TikTok

Останні відео

Останнє відео: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Поширені запитання

Скільки підписників у ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Станом на 2026-11-02 у ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K підписників у TikTok.

Схожі блогери

Найкращі блогери TikTok (Пакистан)

Дивитися всі →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Підписники
25.6M
Вподобання
916.7M
Перегл.
694.4K
ER
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Підписники
22M
Вподобання
1B
Перегл.
9.8M
ER
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
Підписники
21.7M
Вподобання
1.4B
Перегл.
5.4M
ER
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
Підписники
19M
Вподобання
691.5M
Перегл.
346.7K
ER
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Підписники
17.8M
Вподобання
947M
Перегл.
496.1K
ER
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Підписники
15.4M
Вподобання
460.6M
Перегл.
3.2M
ER
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Підписники
15.3M
Вподобання
554.4M
Перегл.
412.3K
ER
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Підписники
14.7M
Вподобання
1.7B
Перегл.
9.1K
ER
2.3%

Türkçe

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K takipçi bugün

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok istatistikleri: 380.6K takipçi, 11.4M beğeni, 4K ortalama izlenme, 0.1% etkileşim.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️, bir TikTok içerik üreticisi: 380.6K takipçi, 11.4M beğeni. Videoları ortalama 4K izlenme alıyor; etkileşim oranı 0.1%. En çok kullanılan etiketler: #n, #siren ve #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Takipçi
552
Takip
11.4M
Beğeni
4K
Ort. izlenme
Etkileşim: 0.1% Pakistan 🗣️ Urduca
Bahsedenler: @fayaznadeem7
380.6K
Takipçi
11.4M
Toplam beğeni
4K
Ort. izlenme
26.8K
Video
552
Takip
0
Favori
0.1%
Etkileşim

Büyüme ve tahmin

Son güncelleme7 günlük tahmin30 günlük tahmin
Takipçi380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Toplam beğeni11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Video26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Ort. izlenme4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Tam raporun kilidini açın

İletişim e-postası, büyüme geçmişi ve tahminler ile tüm video arşivi Pro'ya dahildir.

Tam raporu görüntüle →

Beta süresince Pro ücretsiz: kredi kartı gerekmeden denemeye başlayın.

Tahmini kazanç

Sponsorlu gönderi başına tahmini ücret: $1.9K ile $9.5K arası; 1.000 takipçi başına yaklaşık 5–25 dolar esas alınmıştır. Bu, kitle büyüklüğüne dayalı bir tahmindir, beyan edilmiş gelir değildir.

Son güncelleme:

TikTok profili

Son videolar

Son video: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Sık sorulan sorular

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ kaç takipçiye sahip?

2026-11-02 itibarıyla ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) hesabının TikTok'ta 380.6K takipçisi var.

Benzer içerik üreticileri

(Pakistan) en iyi TikTok içerik üreticileri

Tümünü gör →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Takipçi
25.6M
Beğeni
916.7M
İzlenme
694.4K
Etkileşim
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Takipçi
22M
Beğeni
1B
İzlenme
9.8M
Etkileşim
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Takipçi
19M
Beğeni
691.5M
İzlenme
346.7K
Etkileşim
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Takipçi
17.8M
Beğeni
947M
İzlenme
496.1K
Etkileşim
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Takipçi
15.4M
Beğeni
460.6M
İzlenme
3.2M
Etkileşim
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Takipçi
15.3M
Beğeni
554.4M
İzlenme
412.3K
Etkileşim
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Takipçi
14.7M
Beğeni
1.7B
İzlenme
9.1K
Etkileşim
2.3%

العربية

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – إحصاءات تيك توك: 380.6K متابع اليوم

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — إحصاءات تيك توك: 380.6K متابع، 11.4M إعجاب، 4K مشاهدة في المتوسط، معدل تفاعل 0.1%. صانع محتوى في باكستان ينشر عن #n و#siren.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ صانع محتوى على تيك توك، لديه 380.6K متابع و11.4M إعجاب. يحصد كل فيديو في المتوسط 4K مشاهدة، بمعدل تفاعل 0.1%. أكثر الوسوم استخدامًا: #n، #siren و#fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
المتابعون
552
يتابع
11.4M
الإعجابات
4K
متوسط المشاهدات
معدل التفاعل: 0.1% باكستان 🗣️ الأوردية
ذُكر من قبل: @fayaznadeem7
380.6K
المتابعون
11.4M
إجمالي الإعجابات
4K
متوسط المشاهدات
26.8K
الفيديوهات
552
يتابع
0
المفضلة
0.1%
معدل التفاعل

النمو والتوقعات

آخر تحديثتوقع 7 أيامتوقع 30 يومًا
المتابعون380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
إجمالي الإعجابات11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
الفيديوهات26.8K🔒 Pro🔒 Pro
متوسط المشاهدات4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

افتح التقرير الكامل

البريد الإلكتروني للتواصل وسجل النمو والتوقعات وأرشيف الفيديو الكامل متاحة في Pro.

عرض التقرير الكامل →

Pro مجاني خلال الفترة التجريبية: ابدأ التجربة دون بطاقة ائتمان.

الأرباح التقديرية

السعر التقديري للمنشور الإعلاني الواحد: من $1.9K إلى $9.5K، بناءً على نحو 5 إلى 25 دولارًا لكل 1000 متابع. هذا تقدير مبني على حجم الجمهور وليس دخلًا مُعلنًا.

آخر تحديث:

حساب تيك توك

أحدث الفيديوهات

أحدث فيديو: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

الأسئلة الشائعة

كم عدد متابعي ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️؟

حتى 2026-11-02، لدى ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K متابع على تيك توك.

صناع محتوى مشابهون

أفضل صناع محتوى تيك توك في باكستان

عرض الكل →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
المتابعون
25.6M
الإعجابات
916.7M
المشاهدات
694.4K
التفاعل
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
المتابعون
22M
الإعجابات
1B
المشاهدات
9.8M
التفاعل
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
المتابعون
21.7M
الإعجابات
1.4B
المشاهدات
5.4M
التفاعل
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
المتابعون
19M
الإعجابات
691.5M
المشاهدات
346.7K
التفاعل
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
المتابعون
17.8M
الإعجابات
947M
المشاهدات
496.1K
التفاعل
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
المتابعون
15.4M
الإعجابات
460.6M
المشاهدات
3.2M
التفاعل
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
المتابعون
15.3M
الإعجابات
554.4M
المشاهدات
412.3K
التفاعل
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
المتابعون
14.7M
الإعجابات
1.7B
المشاهدات
9.1K
التفاعل
2.3%

اردو

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K فالوورز آج

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — ٹک ٹاک کے اعداد و شمار: 380.6K فالوورز، 11.4M لائکس، 4K اوسط ویوز، انگیجمنٹ 0.1%۔

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ پاکستان میں ٹک ٹاک کریئیٹر ہیں، 380.6K فالوورز اور 11.4M لائکس کے ساتھ۔ ان کی ویڈیوز کو اوسطاً 4K ویوز ملتے ہیں، انگیجمنٹ ریٹ 0.1% ہے۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ہیش ٹیگز: #n، #siren اور #fay۔

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
فالوورز
552
فالوونگ
11.4M
لائکس
4K
اوسط ویوز
انگیجمنٹ ریٹ: 0.1% پاکستان 🗣️ اردو
ذکر کرنے والے: @fayaznadeem7
380.6K
فالوورز
11.4M
کل لائکس
4K
اوسط ویوز
26.8K
ویڈیوز
552
فالوونگ
0
پسندیدہ
0.1%
انگیجمنٹ ریٹ

نمو اور پیشگوئی

آخری اپ ڈیٹ7 دن کی پیشگوئی30 دن کی پیشگوئی
فالوورز380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
کل لائکس11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
ویڈیوز26.8K🔒 Pro🔒 Pro
اوسط ویوز4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

مکمل رپورٹ کھولیں

رابطہ ای میل، ترقی کی تاریخ اور پیشگوئیاں، اور ویڈیو کا مکمل آرکائیو Pro میں شامل ہیں۔

مکمل رپورٹ دیکھیں →

بیٹا کے دوران Pro مفت ہے: کریڈٹ کارڈ کے بغیر ٹرائل شروع کریں۔

اندازہ شدہ آمدنی

فی اسپانسرڈ پوسٹ اندازہ شدہ ریٹ: $1.9K سے $9.5K، تقریباً 5 سے 25 ڈالر فی 1,000 فالوورز کی بنیاد پر۔ یہ آڈیئنس کے حجم سے لگایا گیا اندازہ ہے، بتائی گئی آمدنی نہیں۔

آخری اپ ڈیٹ:

ٹک ٹاک پروفائل

حالیہ ویڈیوز

تازہ ترین ویڈیو: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ کے کتنے فالوورز ہیں؟

2026-11-02 تک ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) کے ٹک ٹاک پر 380.6K فالوورز ہیں۔

ملتے جلتے کریئیٹرز

پاکستان میں ٹاپ ٹک ٹاک کریئیٹرز

سب دیکھیں →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
فالوورز
25.6M
لائکس
916.7M
ویوز
694.4K
انگیجمنٹ
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
فالوورز
22M
لائکس
1B
ویوز
9.8M
انگیجمنٹ
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
فالوورز
21.7M
لائکس
1.4B
ویوز
5.4M
انگیجمنٹ
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
فالوورز
19M
لائکس
691.5M
ویوز
346.7K
انگیجمنٹ
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
فالوورز
17.8M
لائکس
947M
ویوز
496.1K
انگیجمنٹ
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
فالوورز
15.4M
لائکس
460.6M
ویوز
3.2M
انگیجمنٹ
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
فالوورز
15.3M
لائکس
554.4M
ویوز
412.3K
انگیجمنٹ
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
فالوورز
14.7M
لائکس
1.7B
ویوز
9.1K
انگیجمنٹ
2.3%

हिन्दी

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – टिकटॉक आँकड़े: 380.6K फॉलोअर्स आज

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — टिकटॉक आँकड़े: 380.6K फॉलोअर्स, 11.4M लाइक्स, 4K औसत व्यूज़, 0.1% एंगेजमेंट।

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ टिकटॉक क्रिएटर हैं, जिनके 380.6K फॉलोअर्स और 11.4M लाइक्स हैं। उनके वीडियो पर औसतन 4K व्यूज़ आते हैं और एंगेजमेंट रेट 0.1% है। सबसे ज़्यादा इस्तेमाल होने वाले हैशटैग: #n, #siren और #fay।

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
फॉलोअर्स
552
फॉलोइंग
11.4M
लाइक्स
4K
औसत व्यूज़
एंगेजमेंट रेट: 0.1% पाकिस्तान 🗣️ उर्दू
इनके द्वारा उल्लेखित: @fayaznadeem7
380.6K
फॉलोअर्स
11.4M
कुल लाइक्स
4K
औसत व्यूज़
26.8K
वीडियो
552
फॉलोइंग
0
पसंदीदा
0.1%
एंगेजमेंट रेट

विकास और पूर्वानुमान

आख़िरी अपडेट7-दिन पूर्वानुमान30-दिन पूर्वानुमान
फॉलोअर्स380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
कुल लाइक्स11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
वीडियो26.8K🔒 Pro🔒 Pro
औसत व्यूज़4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

पूरी रिपोर्ट अनलॉक करें

संपर्क ईमेल, ग्रोथ हिस्ट्री और पूर्वानुमान, और पूरा वीडियो आर्काइव Pro में शामिल हैं।

पूरी रिपोर्ट देखें →

बीटा के दौरान Pro मुफ़्त है: बिना क्रेडिट कार्ड के ट्रायल शुरू करें।

अनुमानित कमाई

प्रति स्पॉन्सर्ड पोस्ट अनुमानित दर: $1.9K से $9.5K, हर 1,000 फॉलोअर्स पर लगभग 5 से 25 डॉलर के आधार पर। यह दर्शकों की संख्या पर आधारित अनुमान है, घोषित आय नहीं।

आख़िरी अपडेट:

टिकटॉक प्रोफ़ाइल

हाल के वीडियो

नवीनतम वीडियो: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

अक्सर पूछे जाने वाले सवाल

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ के कितने फॉलोअर्स हैं?

2026-11-02 तक ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) के TikTok पर 380.6K फॉलोअर्स हैं।

मिलते-जुलते क्रिएटर

पाकिस्तान के टॉप टिकटॉक क्रिएटर्स

सभी देखें →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
फॉलोअर्स
25.6M
लाइक्स
916.7M
व्यूज़
694.4K
एंगेजमेंट
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
फॉलोअर्स
22M
लाइक्स
1B
व्यूज़
9.8M
एंगेजमेंट
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
फॉलोअर्स
21.7M
लाइक्स
1.4B
व्यूज़
5.4M
एंगेजमेंट
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
फॉलोअर्स
19M
लाइक्स
691.5M
व्यूज़
346.7K
एंगेजमेंट
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
फॉलोअर्स
17.8M
लाइक्स
947M
व्यूज़
496.1K
एंगेजमेंट
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
फॉलोअर्स
15.4M
लाइक्स
460.6M
व्यूज़
3.2M
एंगेजमेंट
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
फॉलोअर्स
15.3M
लाइक्स
554.4M
व्यूज़
412.3K
एंगेजमेंट
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
फॉलोअर्स
14.7M
लाइक्स
1.7B
व्यूज़
9.1K
एंगेजमेंट
2.3%

বাংলা

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – টিকটক পরিসংখ্যান: 380.6K ফলোয়ার আজ

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — টিকটক পরিসংখ্যান: 380.6K ফলোয়ার, 11.4M লাইক, 4K গড় ভিউ, 0.1% এনগেজমেন্ট।

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ একজন টিকটক ক্রিয়েটর, যাঁর 380.6K ফলোয়ার এবং 11.4M লাইক। তাঁর ভিডিওগুলো গড়ে 4K বার দেখা হয়, এনগেজমেন্ট রেট 0.1%। সবচেয়ে বেশি ব্যবহৃত হ্যাশট্যাগ: #n, #siren ও #fay।

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
ফলোয়ার
552
ফলো করছেন
11.4M
লাইক
4K
গড় ভিউ
এনগেজমেন্ট রেট: 0.1% পাকিস্তান 🗣️ উর্দু
যাদের দ্বারা উল্লিখিত: @fayaznadeem7
380.6K
ফলোয়ার
11.4M
মোট লাইক
4K
গড় ভিউ
26.8K
ভিডিও
552
ফলো করছেন
0
প্রিয়
0.1%
এনগেজমেন্ট রেট

বৃদ্ধি ও পূর্বাভাস

সর্বশেষ আপডেট৭ দিনের পূর্বাভাস৩০ দিনের পূর্বাভাস
ফলোয়ার380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
মোট লাইক11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
ভিডিও26.8K🔒 Pro🔒 Pro
গড় ভিউ4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

সম্পূর্ণ রিপোর্ট আনলক করুন

যোগাযোগের ইমেল, বৃদ্ধির ইতিহাস ও পূর্বাভাস এবং সম্পূর্ণ ভিডিও আর্কাইভ Pro-তে রয়েছে।

সম্পূর্ণ রিপোর্ট দেখুন →

বিটা চলাকালীন Pro বিনামূল্যে: ক্রেডিট কার্ড ছাড়াই ট্রায়াল শুরু করুন।

আনুমানিক আয়

প্রতি স্পনসরড পোস্টের আনুমানিক রেট: $1.9K থেকে $9.5K, প্রতি ১,০০০ ফলোয়ারে প্রায় ৫ থেকে ২৫ ডলারের ভিত্তিতে। এটি দর্শকসংখ্যার ভিত্তিতে অনুমান, ঘোষিত আয় নয়।

সর্বশেষ আপডেট:

টিকটক প্রোফাইল

সাম্প্রতিক ভিডিও

সর্বশেষ ভিডিও: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

সচরাচর জিজ্ঞাস্য

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️-এর কত ফলোয়ার?

2026-11-02 পর্যন্ত ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476)-এর TikTok-এ 380.6K ফলোয়ার আছে।

একই রকম ক্রিয়েটর

পাকিস্তান-এর সেরা টিকটক ক্রিয়েটর

সব দেখুন →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
ফলোয়ার
25.6M
লাইক
916.7M
ভিউ
694.4K
এনগেজ
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
ফলোয়ার
22M
লাইক
1B
ভিউ
9.8M
এনগেজ
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
ফলোয়ার
21.7M
লাইক
1.4B
ভিউ
5.4M
এনগেজ
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
ফলোয়ার
19M
লাইক
691.5M
ভিউ
346.7K
এনগেজ
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
ফলোয়ার
17.8M
লাইক
947M
ভিউ
496.1K
এনগেজ
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
ফলোয়ার
15.4M
লাইক
460.6M
ভিউ
3.2M
এনগেজ
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
ফলোয়ার
15.3M
লাইক
554.4M
ভিউ
412.3K
এনগেজ
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
ফলোয়ার
14.7M
লাইক
1.7B
ভিউ
9.1K
এনগেজ
2.3%

नेपाली

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – टिकटक तथ्याङ्क: 380.6K फलोअर आज

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — टिकटक तथ्याङ्क: 380.6K फलोअर, 11.4M लाइक, 4K औसत भ्यु, 0.1% इन्गेजमेन्ट। #n र #siren बारे पोस्ट गर्ने पाकिस्तानका टिकटक क्रिएटर।

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ टिकटक क्रिएटर हुन्, जसका 380.6K फलोअर र 11.4M लाइक छन्। उनका भिडियोले औसतमा 4K भ्यु पाउँछन्, इन्गेजमेन्ट दर 0.1% छ। सबैभन्दा धेरै प्रयोग हुने ह्यासट्याग: #n, #siren र #fay।

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
फलोअर
552
फलो गरेका
11.4M
लाइक
4K
औसत भ्यु
इन्गेजमेन्ट दर: 0.1% पाकिस्तान 🗣️ उर्दु
यिनले उल्लेख गरेका: @fayaznadeem7
380.6K
फलोअर
11.4M
कुल लाइक
4K
औसत भ्यु
26.8K
भिडियो
552
फलो गरेका
0
मनपर्ने
0.1%
इन्गेजमेन्ट दर

वृद्धि र पूर्वानुमान

अन्तिम अपडेट७ दिनको पूर्वानुमान३० दिनको पूर्वानुमान
फलोअर380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
कुल लाइक11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
भिडियो26.8K🔒 Pro🔒 Pro
औसत भ्यु4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

पूरा रिपोर्ट अनलक गर्नुहोस्

सम्पर्क इमेल, वृद्धिको इतिहास र पूर्वानुमान, र पूरा भिडियो संग्रह Pro मा समावेश छन्।

पूरा रिपोर्ट हेर्नुहोस् →

बिटाको अवधिमा Pro निःशुल्क छ: क्रेडिट कार्ड बिना ट्रायल सुरु गर्नुहोस्।

अनुमानित आम्दानी

प्रति स्पोन्सर्ड पोस्ट अनुमानित दर: $1.9K देखि $9.5K, प्रति १,००० फलोअर करिब ५ देखि २५ डलरको आधारमा। यो दर्शकको आकारमा आधारित अनुमान हो, घोषित आम्दानी होइन।

अन्तिम अपडेट:

टिकटक प्रोफाइल

हालका भिडियो

पछिल्लो भिडियो: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

बारम्बार सोधिने प्रश्नहरू

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ का कति फलोअर छन्?

2026-11-02 सम्म ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) का TikTok मा 380.6K फलोअर छन्।

उस्तै क्रिएटरहरू

पाकिस्तानका शीर्ष टिकटक क्रिएटरहरू

सबै हेर्नुहोस् →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
फलोअर
25.6M
लाइक
916.7M
भ्यु
694.4K
इन्गेज
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
फलोअर
22M
लाइक
1B
भ्यु
9.8M
इन्गेज
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
फलोअर
21.7M
लाइक
1.4B
भ्यु
5.4M
इन्गेज
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
फलोअर
19M
लाइक
691.5M
भ्यु
346.7K
इन्गेज
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
फलोअर
17.8M
लाइक
947M
भ्यु
496.1K
इन्गेज
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
फलोअर
15.4M
लाइक
460.6M
भ्यु
3.2M
इन्गेज
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
फलोअर
15.3M
लाइक
554.4M
भ्यु
412.3K
इन्गेज
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
फलोअर
14.7M
लाइक
1.7B
भ्यु
9.1K
इन्गेज
2.3%

Bahasa Indonesia

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K pengikut hari ini

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistik TikTok: 380.6K pengikut, 11.4M like, 4K rata-rata penayangan, engagement 0.1%.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ adalah kreator TikTok dengan 380.6K pengikut dan 11.4M like. Videonya rata-rata ditonton 4K kali, dengan tingkat engagement 0.1%. Hashtag yang paling sering dipakai: #n, #siren dan #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Pengikut
552
Mengikuti
11.4M
Like
4K
Rata-rata tayangan
Engagement: 0.1% Pakistan 🗣️ Urdu
Disebut oleh: @fayaznadeem7
380.6K
Pengikut
11.4M
Total like
4K
Rata-rata tayangan
26.8K
Video
552
Mengikuti
0
Favorit
0.1%
Engagement

Pertumbuhan & Prediksi

Terakhir diperbaruiPrediksi 7 hariPrediksi 30 hari
Pengikut380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Total like11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Video26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Rata-rata tayangan4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Buka laporan lengkap

Email kontak, riwayat pertumbuhan dan prediksi, serta arsip video lengkap tersedia di Pro.

Lihat laporan lengkap →

Pro gratis selama beta: mulai uji coba, tanpa kartu kredit.

Perkiraan penghasilan

Perkiraan tarif per postingan berbayar: $1.9K hingga $9.5K, dengan asumsi sekitar 5 sampai 25 dolar per 1.000 pengikut. Ini hanya perkiraan dari ukuran audiens, bukan penghasilan yang dilaporkan.

Terakhir diperbarui:

Profil TikTok

Video terbaru

Video terbaru: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Pertanyaan yang sering diajukan

Berapa jumlah pengikut ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Per 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) memiliki 380.6K pengikut TikTok.

Kreator serupa

Top kreator TikTok di Pakistan

Lihat semua →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Pengikut
25.6M
Like
916.7M
Tayangan
694.4K
Engage
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Pengikut
22M
Like
1B
Tayangan
9.8M
Engage
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Pengikut
19M
Like
691.5M
Tayangan
346.7K
Engage
0.6%
Dolly @dollyofficiall
#6
Pengikut
15.4M
Like
460.6M
Tayangan
3.2M
Engage
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Pengikut
15.3M
Like
554.4M
Tayangan
412.3K
Engage
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Pengikut
14.7M
Like
1.7B
Tayangan
9.1K
Engage
2.3%

Bahasa Melayu

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K pengikut hari ini

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — statistik TikTok: 380.6K pengikut, 11.4M suka, 4K purata tontonan, penglibatan 0.1%.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ialah pencipta kandungan TikTok dengan 380.6K pengikut dan 11.4M suka. Videonya mendapat purata 4K tontonan, dengan kadar penglibatan 0.1%. Hashtag paling kerap digunakan: #n, #siren dan #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Pengikut
552
Mengikuti
11.4M
Suka
4K
Purata tontonan
Penglibatan: 0.1% Pakistan 🗣️ Urdu
Disebut oleh: @fayaznadeem7
380.6K
Pengikut
11.4M
Jumlah suka
4K
Purata tontonan
26.8K
Video
552
Mengikuti
0
Kegemaran
0.1%
Penglibatan

Pertumbuhan & Ramalan

Kemas kini terakhirRamalan 7 hariRamalan 30 hari
Pengikut380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Jumlah suka11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Video26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Purata tontonan4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Buka laporan penuh

E-mel hubungan, sejarah pertumbuhan dan ramalan, serta arkib video penuh tersedia dalam Pro.

Lihat laporan penuh →

Pro percuma sepanjang beta: mulakan percubaan, tanpa kad kredit.

Anggaran pendapatan

Anggaran kadar bagi setiap hantaran penajaan: $1.9K hingga $9.5K, berdasarkan kira-kira 5 hingga 25 dolar bagi setiap 1,000 pengikut. Ini anggaran berdasarkan saiz audiens, bukan pendapatan yang dilaporkan.

Kemas kini terakhir:

Profil TikTok

Video terkini

Video terbaharu: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Soalan lazim

Berapa ramai pengikut ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Setakat 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) mempunyai 380.6K pengikut TikTok.

Pencipta kandungan serupa

Top pencipta kandungan TikTok di Pakistan

Lihat semua →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Pengikut
25.6M
Suka
916.7M
Tontonan
694.4K
Libat
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Pengikut
22M
Suka
1B
Tontonan
9.8M
Libat
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Pengikut
19M
Suka
691.5M
Tontonan
346.7K
Libat
0.6%
Dolly @dollyofficiall
#6
Pengikut
15.4M
Suka
460.6M
Tontonan
3.2M
Libat
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Pengikut
15.3M
Suka
554.4M
Tontonan
412.3K
Libat
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Pengikut
14.7M
Suka
1.7B
Tontonan
9.1K
Libat
2.3%

Filipino

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K followers ngayon

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok stats: 380.6K followers, 11.4M likes, 4K average views, 0.1% engagement.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

Si ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ay isang TikTok creator na may 380.6K followers at 11.4M likes. Umaabot sa average na 4K views ang mga video niya, na may engagement rate na 0.1%. Pinakamadalas na hashtag: #n, #siren at #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Followers
552
Following
11.4M
Likes
4K
Avg views
Engagement: 0.1% Pakistan 🗣️ Urdu
Nabanggit ng: @fayaznadeem7
380.6K
Followers
11.4M
Kabuuang likes
4K
Avg views
26.8K
Mga video
552
Following
0
Favorited
0.1%
Engagement

Paglago at hula

Huling na-updateHula sa 7 arawHula sa 30 araw
Followers380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Kabuuang likes11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Mga video26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Avg views4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

I-unlock ang buong ulat

Ang contact email, kasaysayan ng paglago at mga hula, at buong archive ng video ay kasama sa Pro.

Tingnan ang buong ulat →

Libre ang Pro habang beta: simulan ang trial, walang credit card.

Tinatayang kita

Tinatayang bayad kada sponsored post: $1.9K hanggang $9.5K, batay sa humigit-kumulang $5 hanggang $25 kada 1,000 followers. Tantiya ito mula sa laki ng audience, hindi iniulat na kita.

Huling na-update:

TikTok profile

Mga bagong video

Pinakabagong video: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Mga madalas itanong

Ilan ang followers ni ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Hanggang 2026-11-02, may 380.6K TikTok followers si ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476).

Mga katulad na creator

Mga nangungunang TikTok creator sa Pakistan

Tingnan lahat →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Followers
25.6M
Likes
916.7M
Views
694.4K
Engage
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Followers
22M
Likes
1B
Views
9.8M
Engage
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Followers
19M
Likes
691.5M
Views
346.7K
Engage
0.6%
Dolly @dollyofficiall
#6
Followers
15.4M
Likes
460.6M
Views
3.2M
Engage
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Followers
15.3M
Likes
554.4M
Views
412.3K
Engage
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Followers
14.7M
Likes
1.7B
Views
9.1K
Engage
2.3%

Tiếng Việt

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K người theo dõi hôm nay

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — số liệu TikTok: 380.6K người theo dõi, 11.4M lượt thích, 4K lượt xem trung bình, tỷ lệ tương tác 0.1%.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ là nhà sáng tạo TikTok với 380.6K người theo dõi và 11.4M lượt thích. Mỗi video có trung bình 4K lượt xem, tỷ lệ tương tác 0.1%. Hashtag dùng nhiều nhất: #n, #siren và #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Người theo dõi
552
Đang theo dõi
11.4M
Lượt thích
4K
Lượt xem TB
Tỷ lệ tương tác: 0.1% Pakistan 🗣️ Tiếng Urdu
Được nhắc đến bởi: @fayaznadeem7
380.6K
Người theo dõi
11.4M
Tổng lượt thích
4K
Lượt xem TB
26.8K
Video
552
Đang theo dõi
0
Lượt lưu
0.1%
Tỷ lệ tương tác

Tăng trưởng & Dự báo

Cập nhật lần cuốiDự báo 7 ngàyDự báo 30 ngày
Người theo dõi380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Tổng lượt thích11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Video26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Lượt xem TB4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Mở khóa báo cáo đầy đủ

Email liên hệ, lịch sử tăng trưởng và dự báo, cùng toàn bộ kho video có trong gói Pro.

Xem báo cáo đầy đủ →

Gói Pro miễn phí trong giai đoạn beta: dùng thử ngay, không cần thẻ tín dụng.

Thu nhập ước tính

Giá ước tính cho mỗi bài quảng cáo: $1.9K đến $9.5K, tính theo khoảng 5 đến 25 USD cho mỗi 1.000 người theo dõi. Đây là ước tính dựa trên quy mô khán giả, không phải thu nhập đã công bố.

Cập nhật lần cuối:

Hồ sơ TikTok

Video gần đây

Video mới nhất: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Câu hỏi thường gặp

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ có bao nhiêu người theo dõi?

Tính đến 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) có 380.6K người theo dõi trên TikTok.

Nhà sáng tạo tương tự

Top nhà sáng tạo TikTok tại Pakistan

Xem tất cả →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Người theo dõi
25.6M
Lượt thích
916.7M
Lượt xem
694.4K
Tương tác
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Người theo dõi
22M
Lượt thích
1B
Lượt xem
9.8M
Tương tác
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
Người theo dõi
21.7M
Lượt thích
1.4B
Lượt xem
5.4M
Tương tác
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
Người theo dõi
19M
Lượt thích
691.5M
Lượt xem
346.7K
Tương tác
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Người theo dõi
17.8M
Lượt thích
947M
Lượt xem
496.1K
Tương tác
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Người theo dõi
15.4M
Lượt thích
460.6M
Lượt xem
3.2M
Tương tác
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Người theo dõi
15.3M
Lượt thích
554.4M
Lượt xem
412.3K
Tương tác
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Người theo dõi
14.7M
Lượt thích
1.7B
Lượt xem
9.1K
Tương tác
2.3%

ไทย

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – สถิติ TikTok: ผู้ติดตาม 380.6K วันนี้

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — สถิติ TikTok: ผู้ติดตาม 380.6K ยอดไลก์ 11.4M ยอดวิวเฉลี่ย 4K อัตราการมีส่วนร่วม 0.1%

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ เป็นครีเอเตอร์ TikTok มีผู้ติดตาม 380.6K และยอดไลก์ 11.4M วิดีโอมียอดวิวเฉลี่ย 4K ครั้ง อัตราการมีส่วนร่วม 0.1% แฮชแท็กที่ใช้บ่อยที่สุด: #n #siren และ #fay

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
ผู้ติดตาม
552
กำลังติดตาม
11.4M
ยอดไลก์
4K
ยอดวิวเฉลี่ย
อัตราการมีส่วนร่วม: 0.1% ปากีสถาน 🗣️ อูรดู
ถูกกล่าวถึงโดย: @fayaznadeem7
380.6K
ผู้ติดตาม
11.4M
ยอดไลก์รวม
4K
ยอดวิวเฉลี่ย
26.8K
วิดีโอ
552
กำลังติดตาม
0
รายการโปรด
0.1%
อัตราการมีส่วนร่วม

การเติบโตและคาดการณ์

อัปเดตล่าสุดคาดการณ์ 7 วันคาดการณ์ 30 วัน
ผู้ติดตาม380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
ยอดไลก์รวม11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
วิดีโอ26.8K🔒 Pro🔒 Pro
ยอดวิวเฉลี่ย4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

ปลดล็อกรายงานฉบับเต็ม

อีเมลติดต่อ ประวัติการเติบโตและการคาดการณ์ และคลังวิดีโอทั้งหมด อยู่ในแพ็กเกจ Pro

ดูรายงานฉบับเต็ม →

Pro ใช้ฟรีในช่วงเบต้า: เริ่มทดลองใช้ได้เลย ไม่ต้องใช้บัตรเครดิต

รายได้โดยประมาณ

ค่าโพสต์สปอนเซอร์โดยประมาณ: $1.9K ถึง $9.5K คำนวณจากราว 5–25 ดอลลาร์ต่อผู้ติดตาม 1,000 คน เป็นเพียงการประมาณจากขนาดผู้ชม ไม่ใช่รายได้ที่รายงานจริง

อัปเดตล่าสุด:

โปรไฟล์ TikTok

วิดีโอล่าสุด

วิดีโอล่าสุด: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

คำถามที่พบบ่อย

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ มีผู้ติดตามกี่คน

ณ วันที่ 2026-11-02 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) มีผู้ติดตามบน TikTok 380.6K

ครีเอเตอร์ที่คล้ายกัน

อันดับครีเอเตอร์ TikTok ในปากีสถาน

ดูทั้งหมด →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
ผู้ติดตาม
25.6M
ยอดไลก์
916.7M
ยอดวิว
694.4K
มีส่วนร่วม
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
ผู้ติดตาม
22M
ยอดไลก์
1B
ยอดวิว
9.8M
มีส่วนร่วม
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
ผู้ติดตาม
21.7M
ยอดไลก์
1.4B
ยอดวิว
5.4M
มีส่วนร่วม
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
ผู้ติดตาม
19M
ยอดไลก์
691.5M
ยอดวิว
346.7K
มีส่วนร่วม
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
ผู้ติดตาม
17.8M
ยอดไลก์
947M
ยอดวิว
496.1K
มีส่วนร่วม
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
ผู้ติดตาม
15.4M
ยอดไลก์
460.6M
ยอดวิว
3.2M
มีส่วนร่วม
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
ผู้ติดตาม
15.3M
ยอดไลก์
554.4M
ยอดวิว
412.3K
มีส่วนร่วม
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
ผู้ติดตาม
14.7M
ยอดไลก์
1.7B
ยอดวิว
9.1K
มีส่วนร่วม
2.3%

ខ្មែរ

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – ស្ថិតិ TikTok: អ្នកតាមដាន 380.6K ថ្ងៃនេះ

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — ស្ថិតិ TikTok: អ្នកតាមដាន 380.6K ការចូលចិត្ត 11.4M ការមើលជាមធ្យម 4K អត្រាចូលរួម 0.1%។

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ គឺជាអ្នកបង្កើតមាតិកា TikTok ដែលមានអ្នកតាមដាន 380.6K និងការចូលចិត្ត 11.4M។ វីដេអូនីមួយៗទទួលបានការមើលជាមធ្យម 4K ដង ជាមួយអត្រាចូលរួម 0.1%។ ហាស់ថេកដែលប្រើញឹកញាប់បំផុត៖ #n #siren និង #fay។

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
អ្នកតាមដាន
552
កំពុងតាមដាន
11.4M
ការចូលចិត្ត
4K
ការមើលជាមធ្យម
អត្រាចូលរួម: 0.1% ប៉ាគីស្ថាន 🗣️ អ៊ូរឌូ
ត្រូវបានលើកឡើងដោយ: @fayaznadeem7
380.6K
អ្នកតាមដាន
11.4M
ការចូលចិត្តសរុប
4K
ការមើលជាមធ្យម
26.8K
វីដេអូ
552
កំពុងតាមដាន
0
ចំណូលចិត្ត
0.1%
អត្រាចូលរួម

កំណើន និងការព្យាករណ៍

ធ្វើបច្ចុប្បន្នភាពចុងក្រោយព្យាករណ៍ 7 ថ្ងៃព្យាករណ៍ 30 ថ្ងៃ
អ្នកតាមដាន380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
ការចូលចិត្តសរុប11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
វីដេអូ26.8K🔒 Pro🔒 Pro
ការមើលជាមធ្យម4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

ដោះសោរបាយការណ៍ពេញលេញ

អ៊ីមែលទំនាក់ទំនង ប្រវត្តិកំណើន និងការព្យាករណ៍ និងបណ្ណសារវីដេអូពេញលេញ មាននៅក្នុង Pro។

មើលរបាយការណ៍ពេញលេញ →

Pro ឥតគិតថ្លៃក្នុងដំណាក់កាលបេតា៖ សាកល្បងបាន ដោយមិនត្រូវការកាតឥណទាន។

ប្រាក់ចំណូលប៉ាន់ស្មាន

តម្លៃប៉ាន់ស្មានក្នុងមួយប្រកាសឧបត្ថម្ភ: $1.9K ដល់ $9.5K គណនាតាមប្រហែល 5 ដល់ 25 ដុល្លារក្នុងអ្នកតាមដាន 1,000 នាក់។ នេះជាការប៉ាន់ស្មានតាមទំហំទស្សនិកជន មិនមែនជាប្រាក់ចំណូលដែលបានរាយការណ៍ទេ។

ធ្វើបច្ចុប្បន្នភាពចុងក្រោយ:

ប្រវត្តិរូប TikTok

វីដេអូថ្មីៗ

វីដេអូថ្មីបំផុត: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

សំណួរដែលសួរញឹកញាប់

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ មានអ្នកតាមដានប៉ុន្មាននាក់?

គិតត្រឹមថ្ងៃទី 2026-11-02 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) មានអ្នកតាមដាន TikTok 380.6K។

អ្នកបង្កើតមាតិកាស្រដៀងគ្នា

អ្នកបង្កើតមាតិកា TikTok ពេញនិយមបំផុតនៅប៉ាគីស្ថាន

មើលទាំងអស់ →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
អ្នកតាមដាន
25.6M
ការចូលចិត្ត
916.7M
ការមើល
694.4K
ចូលរួម
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
អ្នកតាមដាន
22M
ការចូលចិត្ត
1B
ការមើល
9.8M
ចូលរួម
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
អ្នកតាមដាន
21.7M
ការចូលចិត្ត
1.4B
ការមើល
5.4M
ចូលរួម
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
អ្នកតាមដាន
19M
ការចូលចិត្ត
691.5M
ការមើល
346.7K
ចូលរួម
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
អ្នកតាមដាន
17.8M
ការចូលចិត្ត
947M
ការមើល
496.1K
ចូលរួម
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
អ្នកតាមដាន
15.4M
ការចូលចិត្ត
460.6M
ការមើល
3.2M
ចូលរួម
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
អ្នកតាមដាន
15.3M
ការចូលចិត្ត
554.4M
ការមើល
412.3K
ចូលរួម
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
អ្នកតាមដាន
14.7M
ការចូលចិត្ត
1.7B
ការមើល
9.1K
ចូលរួម
2.3%

မြန်မာ

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – TikTok စာရင်းအင်း: ဖော်လိုဝါ 380.6K ယနေ့

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok စာရင်းအင်း: ဖော်လိုဝါ 380.6K၊ Like 11.4M၊ ပျမ်းမျှကြည့်ရှုမှု 4K၊ ထိတွေ့ဆက်ဆံမှု 0.1%။

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ သည် TikTok ဖန်တီးသူဖြစ်ပြီး ဖော်လိုဝါ 380.6K၊ Like 11.4M ရှိသည်။ ဗီဒီယိုတစ်ခုလျှင် ပျမ်းမျှ ကြည့်ရှုမှု 4K ကြိမ်ရှိပြီး ထိတွေ့ဆက်ဆံမှုနှုန်း 0.1% ဖြစ်သည်။ အသုံးအများဆုံး hashtag များ - #n၊ #siren နှင့် #fay။

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
ဖော်လိုဝါ
552
ဖော်လိုလုပ်ထားသူ
11.4M
Like
4K
ပျမ်းမျှကြည့်ရှုမှု
ထိတွေ့ဆက်ဆံမှုနှုန်း: 0.1% ပါကစ္စတန် 🗣️ အူရ်ဒူ
ရည်ညွှန်းသူများ: @fayaznadeem7
380.6K
ဖော်လိုဝါ
11.4M
Like စုစုပေါင်း
4K
ပျမ်းမျှကြည့်ရှုမှု
26.8K
ဗီဒီယို
552
ဖော်လိုလုပ်ထားသူ
0
အကြိုက်ဆုံး
0.1%
ထိတွေ့ဆက်ဆံမှုနှုန်း

တိုးတက်မှုနှင့် ခန့်မှန်းချက်

နောက်ဆုံး အပ်ဒိတ်7 ရက် ခန့်မှန်းချက်30 ရက် ခန့်မှန်းချက်
ဖော်လိုဝါ380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Like စုစုပေါင်း11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
ဗီဒီယို26.8K🔒 Pro🔒 Pro
ပျမ်းမျှကြည့်ရှုမှု4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

အစီရင်ခံစာ အပြည့်အစုံကို ဖွင့်ပါ

ဆက်သွယ်ရန် အီးမေးလ်၊ တိုးတက်မှု မှတ်တမ်းနှင့် ခန့်မှန်းချက်များ၊ ဗီဒီယို မှတ်တမ်းအပြည့်တို့သည် Pro တွင် ပါဝင်သည်။

အစီရင်ခံစာ အပြည့်ကြည့်ရန် →

beta ကာလအတွင်း Pro ကို အခမဲ့ သုံးနိုင်သည်။ ခရက်ဒစ်ကတ် မလိုပါ။

ခန့်မှန်း ဝင်ငွေ

စပွန်ဆာ ပို့စ်တစ်ခုလျှင် ခန့်မှန်းနှုန်း: $1.9K မှ $9.5K ၊ ဖော်လိုဝါ ၁,၀၀၀ လျှင် ဒေါ်လာ ၅ မှ ၂၅ ခန့်ကို အခြေခံသည်။ ၎င်းသည် ပရိသတ်အရွယ်အစားအပေါ် အခြေခံသော ခန့်မှန်းချက်သာဖြစ်ပြီး ထုတ်ပြန်ထားသော ဝင်ငွေ မဟုတ်ပါ။

နောက်ဆုံး အပ်ဒိတ်:

TikTok ပရိုဖိုင်

နောက်ဆုံး ဗီဒီယိုများ

နောက်ဆုံး ဗီဒီယို: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

မကြာခဏ မေးလေ့ရှိသော မေးခွန်းများ

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ တွင် ဖော်လိုဝါ ဘယ်လောက်ရှိသလဲ?

2026-11-02 အထိ ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) တွင် TikTok ဖော်လိုဝါ 380.6K ရှိသည်။

ဆင်တူ ဖန်တီးသူများ

ပါကစ္စတန်ရှိ ထိပ်တန်း TikTok ဖန်တီးသူများ

အားလုံးကြည့်ရန် →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
ဖော်လိုဝါ
25.6M
Like
916.7M
ကြည့်ရှုမှု
694.4K
ထိတွေ့မှု
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
ဖော်လိုဝါ
22M
Like
1B
ကြည့်ရှုမှု
9.8M
ထိတွေ့မှု
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
ဖော်လိုဝါ
21.7M
Like
1.4B
ကြည့်ရှုမှု
5.4M
ထိတွေ့မှု
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
ဖော်လိုဝါ
19M
Like
691.5M
ကြည့်ရှုမှု
346.7K
ထိတွေ့မှု
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
ဖော်လိုဝါ
17.8M
Like
947M
ကြည့်ရှုမှု
496.1K
ထိတွေ့မှု
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
ဖော်လိုဝါ
15.4M
Like
460.6M
ကြည့်ရှုမှု
3.2M
ထိတွေ့မှု
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
ဖော်လိုဝါ
15.3M
Like
554.4M
ကြည့်ရှုမှု
412.3K
ထိတွေ့မှု
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
ဖော်လိုဝါ
14.7M
Like
1.7B
ကြည့်ရှုမှု
9.1K
ထိတွေ့မှု
2.3%

日本語

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – TikTok統計: フォロワー380.6K 今日

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — TikTok統計: フォロワー380.6K、いいね11.4M、平均再生数4K、エンゲージメント率0.1%。#nと#sirenについて投稿するパキスタンのTikTokクリエイター。毎日更新。

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️はTikTokクリエイターで、フォロワー380.6K、いいね11.4M。動画の平均再生数は4K回、エンゲージメント率は0.1%です。よく使うハッシュタグ:#n、#sirenと#fay。

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
フォロワー
552
フォロー中
11.4M
いいね
4K
平均再生数
エンゲージメント率: 0.1% パキスタン 🗣️ ウルドゥー語
メンションしているクリエイター: @fayaznadeem7
380.6K
フォロワー
11.4M
いいね合計
4K
平均再生数
26.8K
動画
552
フォロー中
0
お気に入り
0.1%
エンゲージメント率

成長と予測

最終更新7日間予測30日間予測
フォロワー380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
いいね合計11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
動画26.8K🔒 Pro🔒 Pro
平均再生数4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

完全版レポートを解除

連絡先メール、成長履歴と予測、全動画アーカイブはProでご利用いただけます。

完全版レポートを見る →

ベータ期間中はProが無料。クレジットカード不要でお試しいただけます。

推定収益

タイアップ投稿1件あたりの推定単価:$1.9K〜$9.5K(フォロワー1,000人あたり約5〜25ドルで計算)。オーディエンス規模からの推定であり、公表された収入ではありません。

最終更新:

TikTokプロフィール

最近の動画

最新の動画:2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

よくある質問

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️のフォロワー数は?

2026-11-02時点で、▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️(@fay..1476)のTikTokフォロワーは380.6Kです。

似ているクリエイター

パキスタンの人気TikTokクリエイターランキング

すべて見る →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
フォロワー
25.6M
いいね
916.7M
再生
694.4K
エンゲージ
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
フォロワー
22M
いいね
1B
再生
9.8M
エンゲージ
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
フォロワー
21.7M
いいね
1.4B
再生
5.4M
エンゲージ
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
フォロワー
19M
いいね
691.5M
再生
346.7K
エンゲージ
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
フォロワー
17.8M
いいね
947M
再生
496.1K
エンゲージ
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
フォロワー
15.4M
いいね
460.6M
再生
3.2M
エンゲージ
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
フォロワー
15.3M
いいね
554.4M
再生
412.3K
エンゲージ
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
フォロワー
14.7M
いいね
1.7B
再生
9.1K
エンゲージ
2.3%

한국어

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – 틱톡 통계: 팔로워 380.6K 오늘

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — 틱톡 통계: 팔로워 380.6K, 좋아요 11.4M, 평균 조회수 4K, 참여율 0.1%. #n 및 #siren 콘텐츠를 올리는 파키스탄 틱톡 크리에이터. 매일 업데이트.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️은(는) 틱톡 크리에이터로, 팔로워 380.6K, 좋아요 11.4M입니다. 동영상 평균 조회수는 4K회, 참여율은 0.1%입니다. 자주 쓰는 해시태그: #n, #siren 및 #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
팔로워
552
팔로잉
11.4M
좋아요
4K
평균 조회수
참여율: 0.1% 파키스탄 🗣️ 우르두어
언급한 크리에이터: @fayaznadeem7
380.6K
팔로워
11.4M
총 좋아요
4K
평균 조회수
26.8K
동영상
552
팔로잉
0
즐겨찾기
0.1%
참여율

성장 및 예측

마지막 업데이트7일 예측30일 예측
팔로워380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
총 좋아요11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
동영상26.8K🔒 Pro🔒 Pro
평균 조회수4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

전체 리포트 잠금 해제

연락처 이메일, 성장 기록과 예측, 전체 동영상 아카이브는 Pro에서 제공됩니다.

전체 리포트 보기 →

베타 기간에는 Pro가 무료입니다. 신용카드 없이 체험을 시작하세요.

예상 수익

광고 게시물 1건당 예상 단가: $1.9K~$9.5K (팔로워 1,000명당 약 5~25달러 기준). 시청자 규모로 추정한 값이며 공개된 수입이 아닙니다.

마지막 업데이트:

틱톡 프로필

최근 동영상

최신 영상: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

자주 묻는 질문

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️의 팔로워는 몇 명인가요?

2026-11-02 기준 ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️(@fay..1476)의 TikTok 팔로워는 380.6K명입니다.

비슷한 크리에이터

파키스탄 인기 틱톡 크리에이터 순위

모두 보기 →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
팔로워
25.6M
좋아요
916.7M
조회수
694.4K
참여율
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
팔로워
22M
좋아요
1B
조회수
9.8M
참여율
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
팔로워
19M
좋아요
691.5M
조회수
346.7K
참여율
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
팔로워
17.8M
좋아요
947M
조회수
496.1K
참여율
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
팔로워
15.4M
좋아요
460.6M
조회수
3.2M
참여율
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
팔로워
15.3M
좋아요
554.4M
조회수
412.3K
참여율
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
팔로워
14.7M
좋아요
1.7B
조회수
9.1K
참여율
2.3%

አማርኛ

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) – የቲክቶክ ስታቲስቲክስ: 380.6K ተከታዮች ዛሬ

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — የቲክቶክ ስታቲስቲክስ: 380.6K ተከታዮች፣ 11.4M ላይኮች፣ 4K አማካይ እይታዎች፣ 0.1% ተሳትፎ። ስለ #n እና #siren የሚለጥፍ በፓኪስታን የቲክቶክ ይዘት ፈጣሪ። በየቀኑ ይዘመናል።

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ የቲክቶክ ይዘት ፈጣሪ ሲሆኑ 380.6K ተከታዮች እና 11.4M ላይኮች አሏቸው። ቪዲዮዎቻቸው በአማካይ 4K እይታ ያገኛሉ፤ የተሳትፎ መጠናቸው 0.1% ነው። በብዛት የሚጠቀሙባቸው ሃሽታጎች፦ #n፣ #siren እና #fay።

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
ተከታዮች
552
የሚከተሏቸው
11.4M
ላይኮች
4K
አማካይ እይታ
የተሳትፎ መጠን: 0.1% ፓኪስታን 🗣️ ኡርዱኛ
የጠቀሱት: @fayaznadeem7
380.6K
ተከታዮች
11.4M
ጠቅላላ ላይኮች
4K
አማካይ እይታ
26.8K
ቪዲዮዎች
552
የሚከተሏቸው
0
ተወዳጆች
0.1%
የተሳትፎ መጠን

ዕድገት እና ትንበያ

ለመጨረሻ ጊዜ የተዘመነውየ7 ቀን ትንበያየ30 ቀን ትንበያ
ተከታዮች380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
ጠቅላላ ላይኮች11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
ቪዲዮዎች26.8K🔒 Pro🔒 Pro
አማካይ እይታ4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

ሙሉ ሪፖርቱን ይክፈቱ

የመገናኛ ኢሜይል፣ የእድገት ታሪክ እና ትንበያዎች እና ሙሉ የቪዲዮ ማህደር በPro ውስጥ ይገኛሉ።

ሙሉ ሪፖርቱን ይመልከቱ →

በቤታ ወቅት Pro ነፃ ነው፤ ያለ ክሬዲት ካርድ ሙከራ ይጀምሩ።

የተገመተ ገቢ

ለአንድ የስፖንሰር ልጥፍ የተገመተ ዋጋ፦ ከ$1.9K እስከ $9.5K፣ በ1,000 ተከታዮች ከ5 እስከ 25 ዶላር በሚሆን ግምት። ይህ በታዳሚ መጠን ላይ የተመሠረተ ግምት እንጂ የተገለጸ ገቢ አይደለም።

ለመጨረሻ ጊዜ የተዘመነው:

የቲክቶክ መገለጫ

የቅርብ ጊዜ ቪዲዮዎች

የቅርብ ጊዜ ቪዲዮ፦ 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

በተደጋጋሚ የሚጠየቁ ጥያቄዎች

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ ስንት ተከታዮች አሉት?

እስከ 2026-11-02 ድረስ ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) 380.6K የቲክቶክ ተከታዮች አሉት።

ተመሳሳይ ይዘት ፈጣሪዎች

በፓኪስታን ምርጥ የቲክቶክ ይዘት ፈጣሪዎች

ሁሉንም ይመልከቱ →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
ተከታዮች
25.6M
ላይኮች
916.7M
እይታዎች
694.4K
ተሳትፎ
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
ተከታዮች
22M
ላይኮች
1B
እይታዎች
9.8M
ተሳትፎ
1.4%
Ali_Hyderabadi ❤️ @ali_khan110
#3
ተከታዮች
21.7M
ላይኮች
1.4B
እይታዎች
5.4M
ተሳትፎ
0.6%
Lishay @alishbahanjum
#4
ተከታዮች
19M
ላይኮች
691.5M
እይታዎች
346.7K
ተሳትፎ
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
ተከታዮች
17.8M
ላይኮች
947M
እይታዎች
496.1K
ተሳትፎ
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
ተከታዮች
15.4M
ላይኮች
460.6M
እይታዎች
3.2M
ተሳትፎ
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
ተከታዮች
15.3M
ላይኮች
554.4M
እይታዎች
412.3K
ተሳትፎ
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
ተከታዮች
14.7M
ላይኮች
1.7B
እይታዎች
9.1K
ተሳትፎ
2.3%

Soomaali

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) TikTok: 380.6K taageere maanta

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) — tirakoobka TikTok: 380.6K taageere, 11.4M like, 4K daawasho celcelis ahaan, 0.1% ka-qaybgal.

fa

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️

@fay..1476

🥀 Dreamer • ~ "Meglio male accompagnati che da soli in agonia." ~

▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ waa abuure TikTok oo leh 380.6K taageere iyo 11.4M like. Fiidiyowyadiisu waxay helaan celcelis ahaan 4K daawasho, heerka ka-qaybgalkuna waa 0.1%. Hashtag-yada ugu badan ee la isticmaalo: #n, #siren iyo #fay.

https://whatsapp.com/channel/0029Vb8Bu57HAdNSxLiJuM38
380.6K
Taageerayaal
552
Uu raaco
11.4M
Like
4K
Celceliska daawashada
Heerka ka-qaybgalka: 0.1% Bakistaan 🗣️ Urduu
Lagu sheegay: @fayaznadeem7
380.6K
Taageerayaal
11.4M
Wadarta like-ka
4K
Celceliska daawashada
26.8K
Fiidiyowyo
552
Uu raaco
0
La jecelyahay
0.1%
Heerka ka-qaybgalka

Kobcinta & saadaalinta

Markii ugu dambeysay la cusboonaysiiyaySaadaalka 7 maalmoodSaadaalka 30 maalmood
Taageerayaal380.6K▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Wadarta like-ka11.4M▲ 🔒 Pro🔒 Pro
Fiidiyowyo26.8K🔒 Pro🔒 Pro
Celceliska daawashada4K▼ 🔒 Pro🔒 Pro

Fur warbixinta oo dhan

Iimaylka xiriirka, taariikhda kobaca iyo saadaasha, iyo kaydka muuqaalada oo dhan waxay ku jiraan Pro.

Eeg warbixinta oo dhan →

Pro waa bilaash inta lagu jiro beta: tijaabi adigoo aan kaarka deynta u baahnayn.

Dakhliga la qiyaasay

Qiimaha la qiyaasay ee boosteyaasha kafaala-qaadka ah: $1.9K ilaa $9.5K, iyadoo lagu salaynayo qiyaastii 5 ilaa 25 doolar 1,000 taageere kasta. Waa qiyaas ku salaysan cabbirka daawadayaasha, ma aha dakhli la shaaciyay.

Markii ugu dambeysay la cusboonaysiiyay:

Profile-ka TikTok

Fiidiyowyadii ugu dambeeyay

Fiidiyowga ugu dambeeyay: 2026-10-25

▶
▶ 1.2K ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 467 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

▶
▶ 508 ❤ 0 💬 0

"  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو" مری معصوم شہ بانو !  یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں مری آنکھوں کو دیکھو اور کہو ان میں  اداسی کتنی گہری ہے! یہ آنکھیں!  جو ستاروں کی طرح کل جگمگاتی تھیں کبھی سورج سے نظریں  یہ ملاتی تھیں! کبھی یہ چاندنی راتوں میں  طاؤسںِ چمن کی مثل  پہروں رقص کرتی تھیں! کبھی چشمِ غزالاں بن کے  دل کو گدگداتی تھیں ! مگر اب کچھ دنوں سے  ہجر کے صحرا میں  روز و شب بِتاتی ہیں! کبھی ان میں  ستارے جگمگاتے تھے وہ اب  سارے کے سارے جل بجھے ہیں! نہ باقی چاند کی روشن وہ تھالی ہے فقط اک ڈوبتے سورج کی لالی ہے! مری معصوم شہ بانو! یہ آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں! مری آنکھوں میں جو  کل تک ستارے جگمگاتے تھے وہ اب سارے کے سارے  جل بجھے ہیں! کہو کیا اب بھی مجھ سے  پیار کرتے ہو! اگر سچ یےتو پھر ایسا کرو تم ستارے وہ جو اب  سارے کے سارےجل بجھے ہیں! سلگتے اپنے پوروں سے سنہری راکھ ان کی میری پلکوں پر بُرک دو ! اداسی نوچ کر اِن دونوں آنکھوں سے  مری آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دو!! (فیروز ناطق خسروؔ) ۔ شاعر: فیروز ناطق خسروؔ انتخاب: نجمہ رحیم *Put your lips on my eyes!* Put your lips on my eyes My innocent shah Bano! These eyes mumble to me; Look at my eyes and say how profound is the sadness in them ! These eyes! Who shimmered like stars hitherto  used to catch the eyes of the sun / prevailed the eye contact with the sun And, In moon nights like a peacock of the garden used to dance for hours ! Sometimes, her bambi-eyes tickled the heart But now from few days  devour days and nights in the desert of separation! Stars shined in them formerly Now they all have extinguished,  The glossy moon palate is no more Just the rosy sun has left behind . My innocent shah bano ! These eyes converse to me stars in my eyes who used to shine formerly have smothered now ! Still, do you love me? If it is true then All Stars who have turned off now  after gleaming  Sprinkle the golden ash of them  on my lashes by your burning fingers! By rasping gloominess from both the eyes Put your lips on my eyes  Put your lips on my eyes My innocent Shah Bano! ......... Original poem  Feroze Natique Khusro  English Translation by Kathrine Kathy یہ لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں چار سو، کوئی ہے چراغ جلنے کا مطلب ہے میں،کہ تو، کوئی ہے میں بے نیاز اگر ہوں تو اس کو سہل نہ جان  یہ پوچھا جاتا ہے ہر روز آرزو کوئی ہے؟ جسے بھی دیکھوں وہی نشۂ خودی میں ہے گم اے میکدے، یہاں آسودۂ سبو کوئی ہے کلام سیکھنا پڑتا ہے خود کلامی سے  کہ خامشی سے یہاں محوِ گفتگو کوئی ہے ملی ہیں دھجیاں جتنی میں لے تو آیا ہوں بتا، اے دامن دل، صورتِ رفو کوئی ہے کبھی کبھی تو مجھے بھی یقین نہیں آتا  مگر یہ طے ہے میرے ساتھ کو بہ کو کوئی ہے یہ کس کے چہرے پہ زردی ہے ڈھلتے سورج کی  یہ کس کی آنکھ سے لگتا ہے آب جو کوئی ہے تو کیسے کوچۂ خوشبو میں آ گیا اشفاق یہ باغ دل ہے یہاں رسم رنگ و بو کوئی ہے ڈاکٹر اشفاق ناصر  کتاب از سرِ نو ...,................. میری تکمیل میں شامل ہیں کچھ تیرے حصے  ہم اگر تجھ سے نہ ملتے تو ادھورے رہتے سنو ذرا لمبی باتیں کیا کرو مجھ سے  کیونکہ میرا دل نہیں بھرتا تم سے بات کر کے بہت لمبا رستہ ہے تم میری بات مان لو جان زندگی کے سفر میں میرا ہاتھ تھام لو خواہش اتنی ہے کہ کچھ ایسا میرا نصیب ہو وقت چاہے جیسا بھی آئے بس تو میرے قریب ہو تجھ سے لڑنا تو بس اک بہانہ ہے  اصل میں تو مجھے تیرے ساتھ وقت بتھانا ہے وحید ا حمد  --- تیرے رابطے سے ہی سانسوں کو قرار آتا ہے وحیدؔ کو بھی تیرے بنا چین کہاں آتا ہے ............. ہو گیا ہے یہ دل  ترا ، اور تم؟  ‎وہ تو میرا نہیں رہا ، اور تم؟ ‎کہہ دیا میں نے ، بے وفا دنیا ‎اس نے آرام سے کہا ، اور تم ؟  ‎تم سے مل کر خوشی ہوئی لیکن  ‎میں ہی خود سے ہوا جدا ، اور تم ؟ ‎ایک سی مہربانیاں ، اب تو  ‎ایک سے لگتے ہیں ، خدا اور تم  ‎ایسے جیسے گلاب اور خوشبو  ‎ایسے ، جیسے تیری صدا اور تم  ‎بس ، یہی مختلف ہے دنیا میں  ‎تیرا چہرہ ، تیری ادا اور تم ‎اب دعائے کمیل کے دم سے ‎دونوں میرے ہیں ، دل ترا، اور تم  ‎علی کمیل قزلباش --- تو سکو ن ھے میری روح کا  تو و جو د ھے میرے خیال کا  نجمہ   #🍀Najma🍀 #fay..1476 #N.R.Y.A #siren.1476 #suronkidunyan

Su'aalaha inta badan la weydiiyo

Immisa taageere ayuu leeyahay ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️?

Illaa 2026-11-02, ▫️▫️▫️🪷 Fay 🪷▫️▫️▫️ (@fay..1476) wuxuu leeyahay 380.6K taageere oo TikTok ah.

Abuurayaal la mid ah

Abuurayaasha TikTok ugu sarreeya ee Bakistaan

Arag dhammaan →
Jannat Mirza 💛 @jannatmirza
#1
Taageerayaal
25.6M
Like
916.7M
Daawasho
694.4K
Ka-qaybgal
1.0%
Kanwalay🎶 @kanwal.135
#2
Taageerayaal
22M
Like
1B
Daawasho
9.8M
Ka-qaybgal
1.4%
Lishay @alishbahanjum
#4
Taageerayaal
19M
Like
691.5M
Daawasho
346.7K
Ka-qaybgal
0.6%
Zulqarnain Sikandar @ch.zulqarnain25
#5
Taageerayaal
17.8M
Like
947M
Daawasho
496.1K
Ka-qaybgal
4.9%
Dolly @dollyofficiall
#6
Taageerayaal
15.4M
Like
460.6M
Daawasho
3.2M
Ka-qaybgal
4.2%
Mehak Malik official @mehakmalikofficial578
#7
Taageerayaal
15.3M
Like
554.4M
Daawasho
412.3K
Ka-qaybgal
0.6%
ARY NEWS @arynews.official
#8
Taageerayaal
14.7M
Like
1.7B
Daawasho
9.1K
Ka-qaybgal
2.3%